Tuesday, 15 April 2014

Aalia Ki Chudai Urdu Sex Story

My name is Aalia. I am 26 years old and living in Lahore. This sex story I'm going to narrate is completely real and written in Urdu. After reading a good collection of Urdu sex stories here, I wanted to narrate my own story. I hope all readers of this blog would like my story as all events are real and I'm using no fiction. This incident happened when I was not married. It was around 3 years ago.
Urdu-sex-story-Aalia-Ki-Chudai
Urdu Sex Story
Before going to this story, I must tell that I was free from university after completing my MSC exams and my parents were also busy in their businesses. Normally, I had a boring routine all day, just watching some movies and sms chat with friends to pass my day. I was living with my grandmother and a servant whole day. One day, a friend of mine called me and asked me to join her for market visit.
دوستو ! میرا نام عالیہ ہے اور میں لاہور میں رہتی ہوں ...یہاں کافی سٹوریز پڑھنے کے بعد میں نے سوچا کہ کیوں نہ آج میں اپنی زندگی کی سٹوری لکھوں..ہو سکتا ہے مرے لکھنے کا انداز آپکو پسند نہ آے لیکن یہ سٹوری ایک حقیقت ہے ...میری عمر تقریبا 26 سال ہے اور یہ واقعہ میری شادی سے پہلے کا ہے...اسے گزرے تقریبا 3 سال ہو چکے ہیں...میں ایم ایس سی کرنے کے بعد یونیورسٹی سے فارغ تھی اور گھر پر رہتی تھی ..سارا دن فارغ رہ رہ کر بور ہو جاتی تو کوئی فلم دیکھنے لگ جاتی یا موبائل پر اپنی کالج کی دوستوں سے گپ شپ لگاتی رہتی ....میرے امی ابو دونوں اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے اور رات آٹھ بجے تک گھر میں میں اور میری دادی کے علاوہ ایک نوکر ہی ہوتا تھا امی اپنی بوتیک سے فرصت نہیں نکال سکتی تھی اور ابو اپنے کاروبار سے....اکلوتی اولاد ہونے کی وجہ سے مجھے کوئی روک ٹوک نہیں تھی ....نہ ہی کبھی میرے امی ابو نے مجھے گھر سے باہر جانے سے روکا تھا....ایک دن میری کالج کی ایک دوست (جس کا نام رافیہ تھا) نے مجھے میسج کیا اور کہا آج اسنے بازار جانا ہے اور وہ گھر پر اکیلی ہے...اگر ہو سکے تو میری طرف آؤ
sex-stories-urdu-font
Sex Story Urdu Font
اس وقت تک مجھے بالکل اس بات کا علم نہیں تھا کہ رافیہ کا اصل پروگرام کچھ اور تھا ....بہرحال میں نے اپنی دادی کو بتایا اور نوکر کو انکا خیال رکھنے کا بول کر گاڑی لے کر اپنی دوست کو پک کر کے نکل گئی...ابھی ہم اسکے گھر سے تھوڑا دور ہی گئے تھے کہ اس نے کہا کہ اصل میں اسے اپنے فرینڈ سے ملنے اسکے فلیٹ پر جانا ھے اور اسے اکیلے جاتے ہوے ڈر لگ رہا تھا اس لیے اس نے مجھے ساتھ لینا مناسب سمجھا ....میرے لیے یہ بات بہت حیران کن تھی...کیوں کے اس سے پہلے وہ اپنے دوست ذیشان سے ہمیشہ پارک میں ملتی تھی ....میں تھوڑی بہت انکوائری کر کے چپ ہو گئی کیوں کے اب وہ اسے ٹائم کنفرم کر چکی تھی....مجھے عجیب سا لگ رہا تھا ....کہ میں وہاں انکے ساتھ کیا کروں گی

فلیٹ پر پہنچ کر ہم ڈرائنگ روم میں بیٹھ گئے...ذیشان ہمارے لیے کولڈ ڈرنک نکال کے لے آیا اور تھوڑی دیر باتیں کرنے کے بعد ذیشان بولا...عالیہ اگر تم مائنڈ نہ کرو تو ہم دوسرے کمرے میں چلے جایں ....ہمیں کچھ پرائیویٹ بات کرنی ہے...میں خود یہی چاہتی تھی کیوں کہ مجھے الجھن ہو رہی تھی کہ میں ان دونوں کے درمیان ایسے ہی بیٹھی ہوں...وہ دونوں اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلے گئے اور میں ٹی وی دیکھنے لگ گئی...رافیہ اور ذیشان کو تقریبا ایک گھنٹے سے زائدہ ہو چکا تھا لیکن ابھی تک وہ باہر نہیں نکلے تھے ....دروازہ ہلکا سا کھلا ہی تھا....مجھے دادی کی وجہ سے تھوڑی ٹینشن ہو رہی تھی سو میں نے سوچا کہ رافیہ کو بلاتی ہوں اور واپس نکلتے ہیں ....میں نے ایک دو دفعہ آواز دی لیکن اندر سے کوئی جواب نہ آیا...مجھے پریشانی ہونے لگی تھی میں اپنی جگہ سے اٹھ کر اس روم کی طرف گئی....تو میرے ہوش ہی اڑ گئے

اندر رافیہ کی ٹانگیں ذیشان کے کندھوں پر تھی اور وو پورے دھیان سے رافیہ کو چودنے میں مصروف تھا..وہ دونوں اتنا مگن تھے کہ میرے آنے کا انکو بلکل علم نہیں تھا ...اور میں کمرے میں کھڑی حیرت سے انکو دیکھ رہی تھی...آج پہلی دفع میں نے رافیہ اور ذیشان کو بلکل ننگے دیکھا تھا...پہلے تو میں نے واپس نکلنا چاہا لیکن پھر مرے قدم ایسے رک گئے جیسے کسی نے مجھے پکڑ لیا ہو ....میں غور سے انکو دیکھتی رہی کہ اچانک رافیہ کی نظر مجھ پر پڑی...ساتھ ہی میرے منہ سے نکلا ...کچھ شرم کرو ....دروازہ تو لاک کر لیتے .....اور ساتھ ہی میری ہنسی نکل گئی .....میں نے پہلی دفع کسی لڑکے کا لن دیکھا تھا ...اور ذیشان کا لن تھا بھی کافی صحت مند ....پوری طرح رافیہ کے اندر تھا...پہلے تو وہ دونوں رک گئے...لیکن پھر میری مسکراہٹ دیکھ کر دونوں ہنسنے لگے....اب مجھے عجیب سا محسوس ہونے لگا اور میں باہر نکلنے لگی تو دونوں مجھے آوازیں دینے لگے ...ارے ...عالیہ .... رکو تو سہی ...بات سنو...میرے قدم نہ چاھتے ہوے بھی وہیں رک گئے ...اور میرا دل چاہا کہ ایک دفع پھر ذیشان کےلن کو غور سے دیکھ لوں

ادھر آؤ پلیز ....عالیہ...بات سنو....میں نے کہا ہاں ...بولو...شرم نہیں آتی ....وہ دونوں ڈھیٹ بن کر پھر ہنسے ...اور ایک زبان ہو کر بولے ...عالیہ تم سے کیسی شرم....اچھا ادھر بیٹھ تو سہی...بس ہم پانچ منٹ میں فری ہو جائیں گے......غصے اور شرم کےساتھ ساتھ مجھے مزہ بھی آ رہا تھا ...اور سچ پوچھیں تو کسی حد تک میں بھی اندر سے گیلی ہو چکی تھی ...مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا کروں...وہ دونوں ایک دم اٹھےاور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے بیڈ کی طرف گرا لیا ...اب میرا بھی دل چاہ رہا تھا کہ ذیشان میرے اندر بھی اپنا لن ڈالے اور اسی طرح مجھے چودے جیسے وہ رافیہ کو چود رہا تھا ....لیکن میرے اندر ایک ڈر بھی تھا اور وہ یہ تھا کہ سواے میرے منگیتر کے میری چوتھ کو کسی نے ہاتھ نہیں لگایا تھا ...اور ایک دفع بھی کسی نے میرے اندر نہیں ڈالا تھا...منگیتر کو میں نے صرف ٹچ کرنے تک ہی رکھا تھا

اب میرے ذھن میں یہی سوچ چل رہی تھی کہ ذیشان نے میرے سامنے رافیہ کا سر پکڑ کر اپنے لن پر رکھ دیا ...اور وہ اسے چوسنے لگی....ذیشان نے ایک ہاتھ سے میرے مموں کو پکڑا تو میرے پورے بدن میں ایک لہر سے اٹھی اور میں کانپ گئی...میں نے اسکا ہاتھ جھٹک دیا اور ساتھ ہی بولا...بدتمیز ....مجھے کچھ نہیں کرنا تم دونوں کرو..اور میں نے اٹھنے کی کوشش کی...لکن رافیہ نے میرے بازو پکڑ لیا ....اور کہا...ارے شرماؤ تو نہیں...دیکھو کتنا مزہ آ رہا ہی...ایک دفع تو کرو...مزہ نہ آیا تو نہ کرنا...میں نے ایک دو دفعہ اپنے منگیتر کو منہ بھی کیا تھا ...لیکن اس وقت میرا دل چاہ رہا تھا کہ آج کر ہی لوں...رافیہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر ذیشان کے لن پر رکھ دیا تھا ...دل چاہا اٹھا لوں لیکن ہاتھ نے ساتھ نہ دیا..سچ تو یہ ہے کہ مجھے مزہ آ رہا تھا اور میں اپنے کنٹرول میں نہیں تھی...تھوڑی دائر ہاتھ پھیرنے کے بعد رافیہ نے میرا سر نیچے اسکے لن پر لگا دیا اور کہا...ہونٹ رکھو اوپر اور زبان پھیر کے دیکھو...میں اسکی باتیں اس طرح مان رہی تھی جسے آج اسکا نہیں بلکہ میری چھدائی کا دن ہو...تھوڑی دیر میں اور رافیہ اسکے لن کو چوستی رہی

باری باری ....ھمیں کافی مزہ آ رہا تھا....پھر ذیشان نے میری شرٹ اتار دے اور میرا برازیئر بھی کھول دیا ...پھر وہ میرے مموں پر ہاتھ پھیرنے لگا....اب میں اسے انکار نہ کر سکی اور اسنے مجھے اپنے اوپر الٹا لیٹنے کو کہا.....ہم 69 پوزیشن میں ہو گئے ...اور وو میری گیلی پھدی پر زبان پھیرنے لگا...اس دوران میں اسکے لن کو چوس رہی تھی ...اور رافیہ اسکے لن کے نیچے ہاتھ پھیر رہی تھی.....تھوڑی دیر اس طرح کرنے کے بعد اس نے مجھے پوزیشن کرکےآھستہ آھستہ اپنا لن میری پھدی پر لگایا اور ساتھ ساتھ میرے مموں کو رافیہ نے خوب مسلا       

اب آھستہ آھستہ اس نے اپنے لن کی ٹوپی میری پھدی میں گھسائی...تو میرے جسم میں تکلیف کی ایک لہر سے دوڑ گئی...لیکن رافیہ نے میرے نپپلز کو چاٹنا سٹارٹ کر دیا اور ذیشان نے میرے دوسرے ممے کو اپنے ہونٹوں میں لے لیا اور پھر ہلکا سا جھٹکا مار کر آدھا لن میرے اندر ڈال دیا...تھوڑی دیر کے لیے مجھے ایسا لگا جسی میں بے ہوش ہو جاؤں گی ...آنکھوں کے آگے اندھیرا سا چھا گیا لیکن پھر میں سنبھل گئی..پلیز باہر نکالو...پلیز ..مجھے بہت درد ہو رہا تھا لیکن ذیشان نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور رافیہ نے مجھے تسّلی دے...کچھ نہیں ہوتا...بے بی...ابھی سب ٹھیک ہو جائے گا...پھر ذیشان نے ایک اور جھٹکا مارا...اور پورا لن میرے اندر کر دیا...اب وہ آھستہ آھستہ اندر باہر کرنے لگا...مجھے مزہ آنے لگا..اب تکلیف مزے میں بدل چکی تھی....میں نے آنکھیں بند کر لی اور جنّت میں مزے لینے لگی....ذیشان کا لن کافی موٹا محسوس ہو رہا تھا...اس نے مجھے تقریبا ١٠ منٹ چودا اور پھر لن باہر نکال لیا...میں اپنے ہونٹ کاٹ رہی تھی اور رافیہ میرے ممے چاٹ رہی تھی ...اسکے بعد ذیشان نے رافیہ کو اپنے لن پر بیٹھا لیا اور رافیہ نے خوب مزہ لیا...پھر ذیشان اسکے اور مرے بدن پر فارغ ہو گیا.... کچھ دیر ہم ادھر ہی لیٹی رہی ...اور پھر میں نے رافیہیوں ذیشان اور رافیہ نے مل کر میری کنواری پھدی کا مزہ لیا......واپسی پر میں درد سے چل بھی نہیں پا رہی تھی.... اسکے بعد بھی ہماری اسی ملاقات ہوئی جسکا حال میں اگلی سٹوری میں سناؤںگی

I hope you all have enjoyed my first sex encounter. Share your comments about my Urdu sex story.  
 

Thursday, 3 April 2014

Urdu sex story of my wife and Friend

This is my first Urdu sex story on this blog. All events of this story are except the names. I hope you would love reading it in Urdu.
Urdu-Sex-Story
 
میرا نام ندیم ہے اور میری عمر 30 سال کے قریب ہے میری ایک سال پہلے میری کزن (چچا کی بیٹی )رابعہ سے شادی ہوئی رابعہ کی عمر اس وقت 23 سال کے قریب ہے اور وہ انتہائی خوب صورت ہے اس کا جسم سمارٹ قد 5 فٹ 5 انچ‘ رنگ گورا‘ ممے 36 سائز کے‘ بال گھنے کالے اور لمبے‘ آنکھیں براﺅن اور رنگ گورا ہے ہماری منگنی بچپن میں ہی ہمارے والدین نے طے کردی تھی. 
 
میں لاہور میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں مارکیٹنگ مینجر کے طورپر کام کرتا ہوں اور میرے ساتھ ایک لڑکا عادل میرے ماتحت کام کرتا ہے جو اسی بلڈنگ میں رہتا ہے جس میں میں رہتا ہوں اور ہم لوگ آفس بھی اکٹھے ہی جاتے ہیں اور واپس بھی اکٹھے ہی آتے ہیں عادل یہاں اس فلیٹ میں اکیلا ہی رہتا ہے اور ساہیوال کارہنے والا ہے وہ اکثر ہمارے گھر آتا جاتا ہے اور ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں میں نے اس کے ساتھ کبھی بھی اس طرح کا رویہ نہیں رکھا جس سے اسے محسوس ہوکہ وہ میرا ماتحت ہے وہ جب بھی میرے گھر آتا وہ میری بیوی کی طرف اکثر گھورتا رہتا تھا اور میں نے کئی بار نوٹ کیا کہ وہ میری بیوی کے حساس حصوں کو دیکھنے کی کوشش کرتا تھا اس بات کو میرے خیال میں رابی نے بھی نوٹ کیا تھا اس لئے وہ بھی اکثر اس وقت ایسی حالت میں عادل کے سامنے آتی کہ اس کو اس کے جسم کے ان حصوں کا کسی حد تک نظارہ ہوسکے اکثر جب عادل ہمارے گھر آتا تو رابی بریزئیر کے بغیر ہی کپڑے پہنتی تاکہ عادل اس کے مموں کا بہتر طورپر نظارہ کرسکے میں نے اپنی خواہش کو پوراا کرنے کے لئے عادل کا انتخاب کیا اور اس پر گذشتہ ماہ باقاعدہ کام شروع کردیا جس کا رابی کو بھی علم نہیں ہوا میں نے عادل کو آفس سے واپسی پر اور صبح آفس جانے سے پہلے روزانہ اپنے گھر بلانا شروع کردیا اور اس کے ساتھ کافی دیر تک گھر میں بیٹھے رہتا تھ

.اور آخر وہ دن آگیا جس کا ہمیں انتظار تھا ہفتہ کو آفس سے واپسی پر پھر پلان پر بات ہوئی اور اس کو حتمی شکل دے دی گئی کھانا کھانے کے بعد میں اور رابی ٹی وی کے سامنے بیٹھ گئے اور آپس میں باتیں بھی کرنے لگے میں نے اس سے کہا کہ آج ایک سپیشل پروگرام ہے اس نے مجھے پروگرام کے بارے میں پوچھا تو میں نے اس کو کہا کہ یہ ایک سرپرائز ہے وہ اس پر بہت تجسس میں مبتلا ہوگئی لیکن میں نے اس کو نہ بتایا وہ مجھے پروگرام کے بارے میں بار بار پوچھ رہی تھی اس نے میرے گلے میں باہیں ڈال کر مجھے پوچھنے کی کوشش کی لیکن میں نے اس کو کچھ بتانے کی بجائے اس کو کسنگ شروع کردی 
 
اور پکڑ کر بیڈ روم میں لے گیا میں نے اس کے تمام کپڑے اتروا دئےے اور اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اس کو بیڈ پر لٹا دیایہ کیا کررہے ہو‘ رابی نے تھوڑا سا احتجاج کرتے ہوئے کہا،یہ سرپرائز ہے‘ میں نے اس سے کہاکیا سرپرائز ہے مجھے بھی توبتاﺅ‘ اس نے ایک بار پھر مجھ سے دریافت کیا لیکن میں نے اس کی بات ان سنی کردی اور اس کو چپ کرکے لیٹنے کو کہا جب وہ لیٹ گئی تو میں نے اس کے دوپٹے سے اس کے ہاتھ پاﺅں بھی اس طرح بیڈ سے باندھ دیئے کہ اس کی ٹانگیں کھلی ہوئی تھیں اور باہیں بھی پھیلی ہوئی تھیں اس وقت اس کے جسم کا ایک ایک انگ کسی بھی دیکھنے والے کے لئے پہلی نظر میں واضح طورپر نظر آسکتا تھا میں نے اس کی آنکھیں اور ہاتھ پاﺅں باندھنے کے بعد اس کے کانوں پر ہیڈ فون لگا کراس کا فیورٹ میوزک ریڈیوسٹیشن آن کردیا اور اس کی آواز اونچی کردی اس نے ایک بار پھر احتجاج کیا کہ یہ کیا ہے میرے کانوں کو ہیڈ فون کیوں لگا رہے ہو میں نے اس کا احتجاج نظر انداز کردیا اور اس سے کہا کہ روٹین کا سیکس کرتے کرتے اکتا گیا ہوں آج تبدیلی کررہا ہوں جس پر وہ بھی بظاہر تجسس میں آگئی اور اس کے مموں میں تناﺅ آگیا

اور ان کے نپلز کھڑے ہوگئے اس کے بعد میں نے فون پر عادل کوکہا کہ وہ آجائے اور دروازے کالاک کھول کر پھر کمرے میں آگیا چند منٹ کے بعد ہی عادل کمرے میں موجود تھا جب اس نے رابی کو ایسے لیٹے ہوئے دیکھا کہ وہ پوری طرح ننگی ہے اور اس کی آنکھیں اور ہاتھ پاﺅں بندھے ہوئے ہیں پہلی نظر پڑتے ہی عادل دروازے میںہی ٹھٹھک گیااور چند منٹ تک ایسے ہی کھڑا ہوا اس کو دیکھتا رہا عادل شکل سے کافی نروس دکھائی دے رہا تھا شائد اس کو یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ حقیقت ہے یا کوئی خواب۔دیکھ لو غور سے اور اپنی خواہش پوری کرلو‘ میں نے اس کے کان کے قریب اپنا منہ لے جاکر کہا اس نے کوئی جواب نہ دیا اور ایک بار مجھے دیکھ کر آگے بڑھ گیا اور بیڈ کے گرد گھوم کر اس نے دور سے ہی اس کے جسم کا نظارہ کیا اس وقت رابی اپنی پیٹھ کر اوپر کرکے اور اپنی بازوﺅں اور ٹانگوں کو ہلاکر آزاد ہونے کی کوشش کررہی تھی اس نے دو تین منٹ تک اس کے جسم کا بغور جائزہ لیا وہ اس وقت ٹراﺅزر اور ٹی شرٹ میں ملبوس تھا میں نوٹ کررہا تھا کہ اس کا لن پوری طرح سے کھڑا ہوا ہے دو تین منٹ بیڈ کے گرد گھوم کر اس نے رابی کے جسم کا معائنہ کیا اور پھرمیرے پاس آکر کہنے لگا اگر تم اجازت دو تو میں اس کے جسم کو چھو کر اور اس کے مموں کو چوس کر مزہ لے سکتا ہوںاوکے ‘ لیکن یاد رہے کہ میں تم کوصرف اس کے جسم کو چھونے اور اس کے مموں کو چوسنے کی ہی اجازت دے رہا ہوں اس سے آگے کچھ نہیں کرنا‘ میں نے اس سے کہاتھینک یو دوست‘ یو آر مائی بیسٹ فرینڈ‘ آئی رئیلی پراﺅڈ آف یو‘ عادل نے مجھے کہا اور پھر بیڈ کے قریب جاکر اس نے اپنا ایک ہاتھ رابی کے ممے کی طرف بڑھا دیا
 
جیسے ہی اس نے رابی کے ممے کو ہاتھ لگایا رابی کے منہ سے اس س س س س س س س کی آواز نکلی اور اس نے اپنا سانس اندر کی طرف کھینچ لیااوپر ہوجاﺅ بیڈ کے اوپر‘ میں نے اس سے کہا تو وہ بیڈ کے اوپر چڑھ کر رابی کے بالکل پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ گیااس نے رابی کے نپل کے گرد اپنی انگلیاں گھمائیں اور پھر ایک نپل کو اپنے منہ میں ڈال کرچوسنے لگا جبکہ دوسرے ممے کے گرد اپنا ہاتھ گھمانے لگامیں نوٹ کررہا تھا کہ رابی بھی ان لمحات کو انجوائے کررہی ہے وہ اپنے چوتڑ اٹھا کر اور اپنی باہوں اور ٹانگوں کو چھڑانے کی کوشش کررہی تھی لیکن باندھے ہونے کی وجہ سے ایسا نہیں کرپارہی تھی اس کے کانوں میں لگے ہیڈ فونز میں سے اتنی آواز آرہی تھی کہ مجھے معلوم ہوگیا کہ اس وقت ریڈیو پر کون سا گانا چل رہا ہے اس سے مجھے تسلی ہوگئی تھی کہ ہماری بات چیت کو رابی نہیں سن سکتی عادل اس کے ایک ممے کو چھوڑ کر دوسرے ممے کو چوسنے لگا اور پھر اس نے تھوڑی دیر کے بعد اپنا سر اونچا کیا اور اپنا ہاتھ اس کی گوری اور لمبی گردن پر پھیرنے لگا اس پھر آہستہ آہستہ اپنا ہاتھ نیچے مموں پر لے آیاپھر اس کا ہاتھ اس کے پیٹ پر چلنے لگا تھوڑی دیر کے بعد وہ اپنا ہاتھ مزید نیچے لے گیا اور اس کی ناف کے نیچے اور پھدی کے تھوڑا اوپر جاکر اس نے اپنا ہاتھ روک لیا اور میری طرف دیکھنے لگامیں تھوڑاآگے بڑھا اور اس کے کان کے قریب اپنا منہ لے جاکر اس کو کہا کہ تم اپنی خواہش پوری کرنے کے لئے جو مرضی کرلو لیکن صرف اسے چودنا نہیں ہے اس نے میری بات سنی اور پھر تھینک یو کہنے کے بعد اپنا دھیان رابی کی طرف کرلیا اس نے اپنا ہاتھ پھدی کے اوپر کیا اور اس کی پھدی کا منہ اپنے ہاتھ کی ہتھیلی سے ڈھک دیا
 
اس نے چند سیکنڈ رابی کی پھدی پر ہاتھ رکھنے کے بعد اپنا ہاتھ ہٹا لیا اور اس کو غور سے دیکھنے لگا اس کا ہاتھ گیلا ہوچکا تھا اس نے اپنے ہاتھ کو اوپر کیا اور اپنے ناک کے قریب لے جاکر سونگھا اور ایک لمبا سانس لیا اس دوران رابی نے اپنی ٹانگوں کو کھولنے اور بند کرنے کی کوشش شروع کردی جس سے اندازہ ہورہا تھا کہ اسے بھی مزہ آرہا ہے میں نے ان خوب صورت لمحات کو کیمرے میں محفوظ کرنے کا سوچا اور فوری طورپر اپنا ہینڈی کیم نکال کر اس کو آن کیا اور اس کا زوم کلوز کرکے شارٹ لینے لگا اس وقت عادل ایک بار پھررابی کے ممے چوس رہا تھا اس کا ایک ہاتھ دوسرے ممے پر تھا اور دوسرا ہاتھ اس کی ناف کے نیچے پھدی کے اوپر چھوٹے چھوٹے بالوں پر حرکت کررہا تھا وہ رابی کے بازو میں لیٹا ہوا تھا اور اس نے اپنی ایک ٹانگ روبی کی ٹانگ پر رکھی ہوئی تھی اچانک عادل تھوڑا سا پیچھے ہوا اور اپنی پینٹ کو نیچے سرکا دیا میں نے اس کو دیکھا تو کیمرے سے آنکھ ہٹا کر اس کو ایک بار پھر تلقین کی
 
”عادل روبی کو چودنا نہیں ہے“
عادل نے جواب میں ہاں میں سر ہلایا اور پھر سے اس کے ساتھ چمٹ گیا اس نے پھر اس کے ممے چوسنے شروع کردیئے اور اس کی ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر اپنی ٹانگ سے اس کی ٹانگ کو رگڑنا شروع کردیا اس کے دونوں ہاتھ پہلے والی جگہوں پر چلے گئے تھے
او و و وہ یو آر سو ہارڈ ڈارلنگ‘ رابی کی ٹانگ سے جیسے ہی عادل کا لن ٹچ ہوا وہ منمائی
او‘ عادل نے صرف اتنا کہنے میں ہی اکتفا کیا حالانکہ اس کو معلوم تھا کہ رابی کے کانوں پر لگے ہیڈ فونز میں میوزک چل رہا ہے اور وہ اس کی بات نہیں سن سکے گی
اب عادل نے اپنی ایک انگلی رابی کی پھدی میں ڈال دی جس پر اس نے اپنی گانڈ کو جس حد تک ممکن تھا اوپر اٹھا کر جواب دیا جبکہ میں ان تمام لمحات کو کیمرے میں محفوظ کررہا تھا عادل نے تھوڑی دیر بعد پھدی میں دوانگلیاں ڈال کر ان کو آگے پیچھے کرنا شروع کردیا پھر چند سیکنڈ بعد اس نے اپنی انگلیاں باہر نکالیں جو پوری طرح سے بھیگی ہوئی تھیں اس نے ان انگلیوں کو سونگھا اور پھر ان کو منہ میں ڈال کرچاٹ لیا
بہت مزے دار ہے تمہاری بیوی کا جوس ‘ کیا میں اس کو براہ راست اپنے منہ سے ٹچ کرلوں ‘ عادل نے میری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا

میں نے کیمرے سے ایک لمحے کے لئے آنکھ ہٹائی اور اس کو دیکھتے ہوئے کہ جو مرضی کرلو لیکن اس کو چودنا نہیں ہے ‘ میں نے اس کو مشروط اجازت دے دی جس پر وہ اٹھا اوراس کے کندھوں کے قریب آکر بیٹھ گیا اس نے اپنے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر مٹھ لگانا شروع کردی اور چند منٹ بعد اس نے اپنے لن کی ٹوپی رابی کی گردن کے پاس کی اور پھر اپنی منی اس کے منہ پر نکال دی پھر اس نے اپنا ڈھیلا لن رابی کے منہ کے قریب کیا اور اس کو اپنے ہاتھ سے رابی کے ہونٹوں سے ٹچ کیا رابی نے اپنا منہ کھولا اور اس اندر کرکے چوسنے لگی جس پر اس کا لن چند منٹوں میں ہی دوبارہ کھڑا ہوگیا میںان تمام لمحات کو کیمرے میں محفوظ کررہا تھا جبکہ اس وقت میرا لن بھی اپنے آپ سے باہر ہورہا تھا اس کے بعد عادل اپنی جگہ سے اٹھا اور رابی کی ٹانگوں کے درمیان میں آگیا
 
اس وقت عادل کا لن پوری طرح سے کھڑا ہوا تھا میں نے محسوس کیا کہ عادل کا لن میری نسبت تھوڑا بڑا اور موٹا بھی ہے میں نے اس کے لن کا کلوز شاٹ لیا وہ اتنی دیر میں اس کی ٹانگوں کے درمیان آگیا اور تھوڑا نیچے ہوکر اس نے اپنا منہ اس کی پھدی پر جما دیا اس نے اپنی زبان باہر نکالی اور اس کی نوک سے رابی کی پھدی کو ٹچ کرنے لگامیں دیکھ رہا تھا کہ عادل نے اپنے دونوں ہاتھ بھی رابی کی پھدی پر رکھے ہوئے تھے اور اس نے اپنے انگوٹھوں سے اس کو تھوڑا سا کھولا اور اپنی زبان کو مزید اندر تک کیا اور پھر اپنی زبان کو اس کی پھدی کے اندر باہر کرنے لگا اس کے بعد اس نے اپنے ہونٹ اس کی پھدی پر جما دئےے
اب مجھے مزید نہ تڑپاﺅ ڈارلنگ اب آجاﺅ‘ سر کو ادھر ادھر مارتی اور اپنے ہاتھ پاﺅں چھڑانے کی کوشش میں مصروف رابی کی آواز آئی
خبردار ۔۔۔۔ اس کو کسی صورت بھی چودنانہیں ہے‘ میںنے عادل کی طرف دیکھتے ہوئے کہااور پھر سے اپنی آنکھ کیمرے پر لگا لی

عادل نے جیسے میری بات سنی ہی نہیں وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور اپنا لن ہاتھ میں پکڑلیامیں نے کیمرے سے آنکھ ہٹائی اور فوری طورپر پاس آکر عادل کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا اور اس سے کہا کہ میں نے تم کو پہلے بھی کہا تھا کچھ بھی ہوجائے اس کو چودنا نہیں ہے جبکہ دوسری طرف رابی کے منہ سے”اب مجھ سے برداشت نہیں ہورہا پلیز چودنا شروع کرو۔۔۔۔ جلدی کرو“ کی آوازیں آرہی تھیں عادل نے میری طرف دیکھا اور کہا ”یار تم بے فکر ہوجاﺅ میں نے تم سے وعدہ کیا ہے کہ اپنا لن اس کی پھدی میں نہیں ڈالوں گا میں صرف اس کو اس کی ٹانگوں پر ہی رگڑوں گا جس پر میں تھوڑا پیچھے ہوگیا اور کیمرے سے شوٹنگ شروع کردی اس نے اپنا لن اس کی ٹانگوں پر رگڑنا شروع کیا اور پھر اپنا لن اس کی پھدی پر رکھ کر اس کی پھدی کے قریب لے گیا میرے ذہن میں ایک دم خیال آیا کہ اب اس کو اٹھا دوں میں کیمرے پر آنکھ جمائے اس کی طرف دیکھ رہا تھا اس کا لن میری بیوی کی پھدی کے قریب سے قریب ہوتا جارہا تھا جبکہ میرے دل کی دھڑکن تیز ہورہی تھی میں سوچ رہا تھا کہ اب اس کو منع کردینا چاہئے میں نے پھر سوچا کہ اس کو میں نے پہلے ہی خبردار کردیا ہے اب یہ رک جائے گا مگر اس کا لن میری بیوی کی پھدی کے مزید قریب ہوگیا پھر اس نے اپنا لن میری بیوی کی پھدی کے منہ پر لا کر روک دیا اور اس کو ایک ہاتھ سے پکڑ کر اس کے اوپر رگڑنے لگا اب میرا دل پہلے سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ دھڑک رہا تھا
اب اندر ڈال بھی دو کیا مجھے مارنا ہے‘ رابی کے منہ سے آواز نکلی عادل نے ایک لمحے کے لئے میری طرف دیکھا میں نے اس کو پھر منع کیا جس پر اس نے کہا ٹھیک ہے میں صرف اس کو اوپر رگڑتا ہوں

جلدی کرو میں مرے جارہی ہوں‘ رابی پھر سے چلائی
عادل نے اپنا لن اس کی پھدی پر رگڑنا پھرسے شروع کردیا رابی کی پھدی جو بہت زیادہ پانی چھوڑ چکی تھی اب کافی حد تک پھسلن زدہ ہوگئی تھی عادل کا لن بار بار کبھی اوپر کبھی نیچے کی طرف پھسل رہا تھا میں نے پھر عادل کو خبردار کیا دیکھو تمہارا لن کسی صورت بھی اس کی پھدی کے اندر نہ جانے پائے صرف اور صرف اپنے لن کی ٹوپی کو اس کی پھدی کے ہونٹوں سے ٹچ کرنا اس سے آگے نہ جانا اس نے میری سنی ہاں میں سر ہلایا اور پھرسے رگڑنا شروع کردیاعادل نے اپنا ہاتھ اس کی پھدی کی طرف بڑھایا اور اس کی پھدی کے دونوں ہونٹوں کو مزید کھولا اور پھر سے تھوڑا تیزی کے ساتھ رگڑنا شروع کردیا میں دیکھ رہا تھا کہ رابی کی پھدی کافی حد تک پانی چھوڑ چکی تھی اور کھلی ہوئی تھی اب اس کی خواہش تھی کہ کسی طریقے سے لن اس کی پھدی میں چلا جائے جس کے لئے وہ بار بار منہ سے بھی کہہ رہی تھی اور اپنے ہاتھ پاﺅں بھی ہلا رہی تھی

مجھے جلدی سے چودنا شروع کرو تیزی سے اور طاقت سے مجھے چودو۔۔۔۔ اب میں نے پھر سوچا کہ اب میں عادل کو روک دوں ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ رابی نے اچانک اپنی گانڈ کو تھوڑا سا اوپر کیا جبکہ عادل کی طرف سے نیچے کو تھوڑا سا زور لگ گیا

میں حیرت سے عادل کے لن اور اپنی بیوی کی پھدی کی طرف دیکھنے لگا عادل کے لن کی ٹوپی میری بیوی کی پھدی کے اندر چلی گئی تھی میں حیرت سے اس طرف دیکھ رہاتھا جبکہ کیمرہ میرے ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا اور اس کا رخ بھی اسی طرف تھا

مجھے چودو۔۔۔۔۔پلیز مجھے زور زور سے پوری طاقت سے چودو۔۔۔۔ رابی کی آواز میرے کانوں تک پہنچی
عادل نے میری طرف عاجزی سے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو کہ اس میں میری کوئی غلطی نہیں ہے مگر اس نے اپنا لن اسی جگہ پر ساکت کررکھا تھا اس نے اس کو نکالا نہیں تھا میں بھی خاموشی سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا
اس کو اور اندر کرو۔۔۔۔۔۔ پلیز شروع کرو‘ رابی کی آواز پھر کمرے میں گونجی جبکہ عادل میری طرف دیکھ رہا تھا اور میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا کیمرے کی نظر صرف لن اور پھدی کے اوپر تھی اس میں مزید کوئی چیز بھی شوٹ نہیں ہورہی تھی عادل کے لن کی ٹوپی ابھی بھی اس کی پھدی کے اندر ہی تھا اس نے ابھی تک اس کو باہر نہیں نکالا تھا
کیا کررہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شروع کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے تنگ کیوں کررہے ہو‘ میرے کانوں میں پھر آواز گونج اٹھی
 
میرے ذہن میں اس وقت کشمکش شروع ہوگئی کہ کیا کروں اس کو روک دوں یا اجازت دے دوں
سوری یار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس میں میری کوئی غلطی نہیں ہے میں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا ۔۔۔۔اگر یہاں تک آگیا ہوں تو آگے بھی اجازت دے دو“عادل نے میری طرف عاجزانہ اور معذرت خواہانہ انداز میں دیکھتے ہوئے کہا
میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ اس کو کیا کہوں کہ عادل نے میری خاموشی کو اجازت سمجھ لیا اور اس نے اپنی گردن گھما کر نظر رابی کی پھدی پر کی اور پھر اپنے لن کو اندر کی طرف دھکیل دیا اور اس کا لن میری بیوی کی پانی پانی پھدی کے اندر جڑ تک چلا گیا

آہ۔۔۔۔۔۔۔۔رابی نے اپنا سانس اندر کی طرف کھینچتے ہوئے کہا
عادل نے اپنا لن باہر نکالااور پھر جھٹکوں سے اس کو اندر باہر کرنا شروع کردیا اس نے رابی کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں اور اس کو اپنی پوری طاقت کے ساتھ چودنا شروع کردیا میں حیرت زدہ آنکھوں سے اس کی طرف دیکھنے لگا جبکہ کیمرہ میرے ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا اور شوٹنگ میں مصروف تھا اس دوران رابی کے کانوں سے ہیڈ فون تھوڑا باہر نکل آئے میں نے دیکھا تو فوری طورپر ہینڈی کیم کو پکڑے اس کی طرف لپکا اور عادل کو ایک لمحے کے لئے روک کر اس کی توجہ ہیڈ فونز کی طرف دلائی اس نے چدائی روک کر ہیڈ فون دوبارہ سے کانوں میں فٹ کئے جن میں سے اونچی آواز میں میوزک کی آواز آرہی تھی اور پھرسے چدائی شروع کردی پھر اس نے جھٹکے دینا بند کردیئے اور اپنا لن رابی کی پھدی کے اندر روک کر اس کے سینے پر اپنا منہ لے گیا اس نے اس کے ممے اپنے منہ میں لے کر چوسنا شروع کردیئے اور پھر چند منٹ بعد دوبارہ سے چدائی شروع کردی

اچانک میرے ذہن میں خیال آیا کہ عادل نے کنڈوم نہیں پہن رکھا
اوہ شٹ! عادل کو روکنا چاہئے ‘ میں ابھی اس کو روکنے کی سوچ ہی رہا تھا کہ اس نے ایک زور کا جھٹکا لیا اور اپنا پورا لن اس کی پھدی کے اندر ڈال کررک گیا اس نے اپنی آنکھیں بند کرلیں اور اس کے جسم نے ایک دو جھٹکے لئے اور پھر چند سیکنڈ کے بعد اس نے اپنا لن اس کی پھدی سے باہر نکال لیا میں نے دیکھا کہ اس کا لن ابھی نرم تھا
اوہ نو۔۔عادل میری بیوی کی پھدی میں ہی فارغ ہوگیا تھا میں خاموشی سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا اس نے فوری طورپر اپنے کپڑے پہنے اور اٹھ کر مجھے گلے لگا لیا

میں نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا جو اپنا جسم ڈھیلا چھوڑے بیڈ پر پڑی تھی اس کے ہاتھ پاﺅں اور آنکھیں بندھی ہوئی تھیں اور اس کی پھدی سے عادل کے لن سے نکلنے والا مادہ اور اس کا اپنا پانی مکسچر بن کر قطرہ قطرہ اس کی ٹانگوں سے بہتا ہوا باہر نکل رہا تھا میں نے کیمرہ الماری میں رکھا اور کمرے کی لائٹ آف کی اس کے بعد اس کی آنکھیں بازو اور ٹانگیں کھول دی

ویری انٹرسٹنگ‘ ویری ونڈر فل‘ آئی رئیلی انجوائے اٹ ‘ میری بیوی نے مجھے جپھی ڈالتے ہوئے کہا جس پر میں سوچنے لگا کہ اگر اس کو حقیقت معلوم ہوجائے تو یہ کیا سوچے گی تھوڑی دیر بعد وہ سو گئی لیکن میں ساری رات جاگتا رہا اور سوچتا رہا کہ یہ کیا ہوگیا ہے مجھے ایسا کرنا چاہئے تھا یا نہیں آخر میں نے یہ سوچا کہ اس کو ایک ڈراﺅنا خواب سمجھ کر بھول جانا ہی بہتر ہے میں نے سوچا کہ اگر رابی کو معلوم ہوگیا کہ میں نے اس طرح کیا ہے تو وہ مجھ سے ناراض ہوجائے گی جس کا میں کسی صورت بھی متحمل نہیں ہوسکتا کیوں کہ میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں 
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Hot Girls

Stories