Wednesday, 19 November 2014

Urdu Sex Story Mehwish Ki Chudai

This Urdu Story is sent by one of our blog readers. It is a nice sex story in Urdu Font. Read and enjoy in Urdu.
میرا نام تنویر ہے اور میں کراچی  کا رہنے والا ہوں جو کہانی میں آپکو سنانے جا رہا ہوں یہ ایک ایسے واقعہ پر مبنی ہے جو میرے ساتھ تقریبا دو سال پہلے پیش آیا
Urdu-sex-chudai-story

تو بات کچھ یوں ہے کہ دوسال پہلے جب میں آفس میں کمپیوٹر پر کام کر رہا تھا تو میرے موبائل پر گھنٹی بجی جب میں نے موبائل کی سکرین پر دیکھا تو اس پر کوئی انجان نمبر ڈسپلے ہو رہا تھا خیر میں نے کال اٹینڈ کی اور ہیلو کہا مگر دوسری طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔ میرے کافی دفعہ ہیلو ہیلو کہنے پر بھی جب کوئی جواب نہ آیا تو میں نے کال کاٹ دی۔ میں دوبارہ اب پھر اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ کچھ دیر بعد پھر اسی نمبر سے میرے موبائل پر دوبارہ کال آئی اور میں نے دوبارہ کال رسیو کی تو موبائل پر دوبارہ وہی رسپونس ملا یعنی دوسری طرف سے کوئی بھی نہ بولا اور پھر کال کٹ گئی۔ اب میں اس طرح کی بار بار کال سے تنگ آ چکا تھا ایک طرف کام کا برڈن تھا اور دوسری طرف اس طرح کی بارر بار کالز۔ ابھی میں دل ہی دل میں کال کرنے والے کو بڑا بھلا کہہ رہا تھا کہ میرے موبائل کی دوبارہ گھنٹی بجی میں نے موبائل پر نمبر دیکھا تو دوبارہ پھر اسی نمبر سے کال آ رہی تھی اب کی بار میرا پارہ آسمان پر تھا اور میں نے جلدی سے کال اٹینڈ کی اور بس گالیاں نکالنے شروع کردیں۔ میں نے کال کرنے والے کو فون پر کہا بہن چود کیا گانڈ پروانی ہے جو بار بار فون کر رہا ہے تیر گانڈ پھاڑون ، تیری بہن کی کس، تیری بھدی میں لن ڈالوں میں اسی طرح موبائل پر بار بار تنگ کرنے والے کو گالیاں نکال رہا تھا اور جیسے ہی میں نے کال کرنے والے کو کہا کہ اگر میرا لن اتنا ہی پسند آ گیا ہے تو بہن چود منہ سے کیوں نہیں بولتا۔ تیری چدائی کی خواہش پوری کر دوں گا۔ ابھی میں نے یہ الفاظ کہے ہی تھے کہ دوسری طرف سے ایک نسوانی آواز سنائی دی تو کر دیں ناں خواہش پوری اور فون بند ہو گیا۔

اب فون کے بند ہوتے ہی سب سے پہلے میرا دھیان اپنے جاننے والوں کی طرف گیا کہ کیا یہ سب کوئی مزاق کر رہا ہے۔ کون ہو سکتا ہے۔ اب میرا دھیان کام کی بجائے اس فون کال کرنے والی کی طرف تھا خیر میں نے وہ نمبر اپنے موبائل میں سیو کر لیا۔ اب رات کو جب میں کھانا کھانے کے بعد اپنے کمرے میں سونے کے لیے آیا تو میں نے اسی نمبر پر کال کرنے کا سوچا کہ دیکھا جائے کہ کون ہے اور کیا چاہتا ہے۔ خیر میں بیڈ پر لیٹ گیا اور اسی نمبر پر کال ملا دی۔ اب اس نمبر پررنگ ہو رہی تھی مگر کسی نے بھی فون رسیو نہ کیا۔ میں نے دوسری بار دوبارہ کوشش کی۔ تو دوسری رنگ پر ہی فون رسیو ہو گیا۔ اور دوسری طرف سے کسی لڑکی نے ہیلو کون ؟ کہا تو میں نے کہا آپ کے اس نمبر سے صبح میرے اسی نمبر پر کافی کالز آ رہی تھیں کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ آپ کون ہیں اور کیا چاہتی ہیں۔ تو اس لڑکی نے کہا کہ اس نمبر سے آپ کو کال کیسے آ سکتی ہے یہ نمبر تو میرے پاس ہی ہوتا ہے اور میں نے تو آپکو فون ہی نہیں کیا۔ تو میں نے کہا دیکھیں میڈم آپ کا نمبر میرے فون کی رسیوڈ کالز لسٹ میں ابھی تک سیو ہے مجھے بھلا آپ سے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے۔

تو وہ لڑکی بولی اس کا مطلب ہے کہ میں آپ سے جھوٹ بول رہی ہوں تو میں نے کہا یہ تو مجھے نہیں پتا ہاں البتہ میں سچ بول رہا ہے میں بس اتنا جاتنا ہوں ۔ میرے اس جواب پر اس لڑکی نے کہا اچھا چلیں مان لیتے ہیں کہ صبح آپکو فون میں نے ہی کیا تھا اب بولیں کیا کریں گے آپ ؟ تو میں نے کہا میں نے آپکو فون نہیں کیا تھا فون آپ نے کیا تھا تو آب بولیں آپ کیا چاہتی ہیں۔ میرے اس سوال پر اس لڑکی نے مجھے ایسا جواب دیا جس کی میں امید بھی نہیں کر سکتا تھا یعنی میں نے ایسا سوچا بھی نہیں تھا کہ کوئی لڑکی ایسی بات کر سکتی ہے۔ اس لڑکی نے آپ بتائیں آپکو کیا چاہیئے کے جواب میں کہا کہ مجھے آپکا لن چاہیئے جس کا ۔ میں یہ جواب سن کر کچھ دیر خاموش ہو گیا۔ پھر وہ  لڑکی دوبارہ مجھ سے مخاطب ہوئی اور بولی کہ صبح تو تم بڑے دعوے کر رہی تھے اب کیا ہوا۔ کیا وہ سب دعوے ہی تھے۔ لگتا ہے مردانگی ختم ہو گئی اور یہ کہنے کے بعد وہ لڑکی قہقہہ لگا کر ہنسی۔ میں نے کہا ایسی کوئی بات نہیں۔ میں نے آج تک کسی لڑکی کے ساتھ یہ سب نہیں کیا مگر مجھے اپنے آپ پر اتنا بھروسہ ہے کہ تمیں صبح میں تارے دکھلا دوں۔ یہ سن کر وہ لڑکی دوبارہ قہقہہ لگاکر ہنسی اور بولی اچھا تو دیکھ لیتے ہیں۔ میں نے اسے پوچھا بولو تم کہاں رہتی ہو تو اس نے کہا گھر میں ، یہ کہہ کر وہ پھر قہقہہ لگا کر ہنسی میں نے کہا جناب کا گھر کہاں ہے تو اس نے کہا یہ بات چھوڑو میں تمہیں کل فون کروں گی پھر دیکھتے ہیں کہاں ملنا ہے میں نے کہا ٹھیک ہے۔

بس اس لڑکی سے بات کرنی تھی کہ پوری رات مجھے نیند ہی نہ آئی پوری رات اس لڑکی کے بارے میں ہی سوچتا رہا میرا لن پوری رات کھڑا رہا صبح چار بجے جا کر آنکھ لگی اور خواب میں اسی لڑکی کے تصور کو چودتا رہا اور اسی دوران اختلام بھی ہو گیا


اب دن چڑھا اور روز کی طرح میں آفس چلا گیا مگر آفس میں اب میرا دل کہاں لگ رہا تھا بس تھا تو اسی لڑکی کی کال کا انتظار۔ اب ایک ایک منٹ بہت مشکل سے کٹ رہا تھا آپکو تو پتا ہے کہ مفت کی چوت کو کون چھوڑتا ہے۔ خیر میں ساتھ ساتھ کام بھی کرتا رہا اور کال کا انتظار بھی دن کے 12 بجے ہوں گے کہ میرے فون کی گھنٹی بجی تو میں نے ڈسپلے پر دیکھا تو اسی لڑکی کے نمبر سے مجھے کال آ رہی تھی میں نے جلدی سے فون آٹینڈ کیا تو وہی رات والی لڑکی نے مجھےسلام کیا اور حال چال پوچھنے کے بعد پوچھا کہ اس نے کہیں مجھے ڈسٹرب تو نیں کیا تو میں نے کہا نہیں میں تو صبح سے آپ کی ہی کال کا انتظار کر رہا تھا۔ میری یہ بات سن کر وہ ہنسنے لگی۔ پھر میں نے پوچھا کیا پروگرام ہے جناب کا تو اس نے کہا آپ ڈیفنس آ سکتے ہی کیا تین بجے تک میرا ڈیفنس میں گھر ہے بس آپ یہاں پہنچ کر مجھے کال کر لیں اسی نمبر پر میں نے کہا ٹھیک ہے میں پورے تین بجے آپ کے پاس ہوں گا ۔ پھر میں نے جلدی سے اپنا آفس کا کام مکمل کیا اور تین ڈھائی بجے آفس سے نکل پڑا اور تقریبا پورے ٹائم پر میں اس کی بتائی گئی ڈیفنس کے بلاک میں تھا میں نے اس کے دیئے ہوئے نمبر پر فون کیا تو اس نے کہا آپ وہیں رہو میں آتی ہوں۔ اب میں خیالوں میں اس کا سکیچ بنا رہا تھا کہ وہ ایسی ہو گی وہ ویسی ہو گی۔ ابھی میں انہی خیالوں میں تھا کہ میرے پاس ہنڈا کار آ کر رکی ۔ اس میں بہت ہی خوبصورت لڑکی بیٹھی تھی اب میں دعا کر رہا تھا کہ کاش یہ وہی لڑکی ہو جس سے میری آج ملاقات ہے

اس لڑکی نے بھی میری طرف ایک دو بار دیکھا اور گاڑی میں بیٹھے ہوئے ہی اپنے بیگ میں سے اپنا موبائل نکالا اور کسی کو فون ملانے لگی۔ اس نے جیسے ہی اپنا موبائل اپنے کان کو لگایا میرے فون پر اسی نمبر سے بیل ہوئی میں نے فون اٹھایا تو اس لڑکی نے بھی مجھے پہچان لیا اور گاڑی میں بیٹھے ہوئے ہی میری طرف دیکھ کر مسکرانے لگی اس نے فون پر مجھے کہا آ جاو۔ یہ میں ہی ہوں اور میں اس کی گاڑی میں جا کر بیٹھ گیا۔ اس نے ٹائٹ قسم کی پینٹ اور شرٹ پہن رکھی تھے گاڑی کی سیٹ پر بیٹھے ہوئے اس کے چوتر صاف دکھائی دے رہے تھے وہ نہ صرف بہت خوبصورت تھی بلکہ وہ نسوانی حسن سے بھی مالا مال تھی۔ اس کے ممے اتنے ٹائٹ اور بڑئے تھے کہ کوئی بھی انھیں دیکھے بنا نہیں رہ سکتا تھا۔ پھر وہ خود ہی مجھ سے مخاطب ہوئی اور بولی کہ جی جناب سنا ہے آپ چدائی کے بڑے ماہر ہیں اس کے یہ الفاظ کہنے تھے کہ میں شرما گیا اور سوچنے لگا کیا کوئی لڑکی اتنی بے باق بھی ہو سکتی ہے۔ مگر میں نے ہمت کی اور کہا آپ کو کوئی شک ہے تو وہ مسکرانے لگی۔ پھر اس کی گاڑی ایک بڑی سی کوٹھی کے سامنے جا کر رک گئی ایک ملازمہ نے دروزازہ کھولا اور وہ مجھے لے کر گھر کے اندر آ گئی اس کا گھر بہت شاندار تھا اس نے گاڑی گھر کے اندر پارک کی اور مجھے لے کر ٹی لانج میں آ گئی اس نے مجھے ٹی وی آن کر کے دیا اور مجھے کہا کہ وہ ایک منٹ میں آتی ہے اب میں سوچ رہا تھا کہ وہ لگتا ہے فریش ہونے گئی ہے میں سچ بتاوں میرا ٹی وی کی طرف بالکل بھی دھیان نہیں تھا میں تو اس لڑکی کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا۔ پھر اس کی ملازمہ میرے سامنے فروٹ اور دوسری کھانے پینے کی چیزیں رکھ کر چلی گئی میں نے ان میں سے ایک سیب اٹھایا اور اسے کھانے لگا ۔ اسی دوران وہ لڑکی بھی باہر آ گئی اس نے مجھے کہا اور لیجئے آپ نے تو کچھ لیا ہی نہیں ۔ میں نے کہا نہیں میں نے کچھ دیر پہلے ہی کھانا کھایا ہے

اس لیے اتنی بھوک نہیں ہے۔ پھر اس نے کہا آیئے میں آپکو اپنا بید روم دیکھاتی ہوں اور وہ مجھے ساتھ لے کر اپنے بیڈ روم میں چلی گئی۔ اس کا بیڈ روم بھی بہت شاندار تھا اندر اے سی پہلے سے آن تھا اس نے مجھے بید پر بیٹھایا اور خود ہی کمرا لاک کر دیا۔ وہ میرے پاس اسی بیڈ پر بیٹھ گئی اور بولی کہ آپ نے اپنا نام بھی نہیں بتایا اور نا ہی میرا نام پوچھا ہے۔ تو میں نے کہا میرا نام تنویر ہے تو اس نے کہا میرا نام مہوش ہے۔ میں نے کہا بہت پیارا نام ہے اپکا تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا آپکا بھی نام بہت پیارا ہے اس کی بات پر میں بھی مسکرا دیا۔ پھر مہوش نے مجھے کہا کہ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میرے پاس سب کچھ ہے پھر بھلا میں آپکو اپنے ساتھ کیوں یہاں لائی ہوں ۔ میں نے کہا ہاں میں تو کب سے یہی سوچ رہا ہوں بلکہ آپ کے گھر والوں کے بارے میں بھی سوچ رہا ہوں ۔ تو اس نے کہا کہ میں شادی شدہ ہوں اور یہ گھر میرے شوہر کا ہے جو کہ امریکہ میں رہتے ہیں۔ تین سال پہلے انہوں نے وہیں کسی لڑکی سے شادی کر لی دو سال پہلے ان کا یہاں پاکستان چکر لگا تھا۔ میرے پاس دنیا کی ہر چیز ہے۔ مجھے یہاں کسی چیز کی بھی کمی نہیں ہے مگر میرے نصیب میں شوہر کا پیار نہیں ہے۔ ہر عورت کے لیے مرد کا پیار بہت ضروری ہے اور ایک شادی شدہ عورت کو اس کی کتنی طلب ہوتی ہے اس کا آپ اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔ اس دن میں نےجب آپ کو فون کیا تو اس سے پہلے میری میرے شوہر سے بات ہوئی تھی جسے میری زرا بھی پروا نہیں اور اس وقت جب اسے میں نے کہا کہ اگر تم پاکستان نہ آئے تو تمہاری طرح میں بھی یہاں لڑکوں کے ساتھ دوستیاں کرلوں گی تو اس نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا کہ جتنی مرضی دوستیاں کر لو اور اس نے فون بند کر دیا اور میں نے غصے میں آپ کو رونگ نمبر ڈائل کر دیا۔ تم نے اس دن مجھے کہا کہ تم میری چدائی کی خواہش پوری کر دو گے بس پوری رات مجھے نیند ہی نہیں آئی میں نے مہوش کی کہانی سنی تو میرا لن کھڑا ہو گیا 

کیوں کہ یہاں تو رستہ ہی بالکل صاف تھا میں نے آگے پڑھ کر مہوش کو گلے لگا لیا اور کہا کہ میں تمہیں شوہر کا پیار دوں گا تمیں اس کی کمی کبھی محسوس نہیں ہونے دوں گا اور یہ کہتے ہی میں نے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دیئے اور اسے بے انتہا کس کرنے لگا۔ وہ بھی مجھے ایسے نوچنے لگی جیسے وہ عرصہ دراز سے اسی چیز کی پیاسی ہو میں نے اس کو کس کرتے ہوئے ہی بیڈ پر لیٹا دیا اور اس کی گردن پر کس کرنے لگا پھر میں نے اس کے مموں کی طرف ہاتھ بڑھائے اور قمیض کے اندر ہاتھ ڈال کر اس کے ممے دبانے لگا اس کے ممے دبانا تھے کہ اس کی حالت خراب ہونے لگی وہ اس قدر مدہوش ہو گئی کہ جیسے اسے دنیا کا ہوش ہی نہ ہو میں نے اس کو خود ہی اٹھایا اور اس کی قمیض اتار دی اب قمیض کے نیچے اس نے برا پہن رکھی تھی جس کا رنگ لال تھا۔ میں نے اس کے لیٹے ہوئے ہی اپنے ہاتھ اس کی کمر پر لیجا کر اس کے برا کی ہک کھول دی اور برا کو اس کے مموں سے ہٹا دیا اب اس کے دونوں ممے آزاد تھے میں نے آج تک ایسے ملائی کی طرح سفید ممے نہین دیکھے تھے مجھ سے اب ان مموں کو دیکھ کر رہا نا گیا اور میں نے اس کے مموں کو اپنے منہ میں ڈال کر چوسنا شروع کر دیا۔ میں کبھی اس کے مموں پر کس کرتا تو کبھی اس کے مموں کے نپلز اپنے منہ میں ڈالتا اور کبھی ان پر تھوڑا تھوڑا کاٹتا جیسے جیسے میں اس کے مموں پر پیار کرتا وہ اس قدر مدہوش ہوتی جاتی۔ پھر میں نے اس کی شلوار کی طرف رخ کیا اور اس کی شلوار جس میں لاسٹک ڈلا ہوا تھا اتار دیا ۔ اس کی چوت بہت پیاری تھِی یعنی عورتوں کی عموما چوت بال صاف کر کر کے کالی ہو چکی ہوتی ہے 

مگر اس کی چوت میں ایسی کوئی بات نہ تھی اور نہ ہی اس کی چوت پر کوئی بال تھا اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ چدوانے کی مکمل تیاری کر کے آئی تھی۔ میں نے اس کی چوت کے اندر اپنی انگلی گھسانا چاہی تو میں نے محسوس کیا کہ اس کی چوت بہت زیادہ گیلی ہو چکی ہے۔ میں نے پھر بھی اپنی انگلی اس کی چوت میں گھسا دی۔ میں اپنی انگلی کو اس کی چوت میں گھمانے لگا کبھی میں اپنی انگلی کو باہر نکالتا اور اس کی چوت کے باہر والے حصے پر اپنی انگلی آہستہ آہستہ پھیرتا۔ میرے انگلی پھیرنے سے مہوش کی حالت اور زیادہ خراب ہوتی جاتی یعنی وہ مدہوشی کی وادیوں میں پہنچ کر آہستہ آہستہ میں سے آوازیں نکالتی جاتی۔ مجھے اس کی آوازیں بہت اچھی لگ رہیں تھیں۔ پھر میرا لن جو کافی دیر سے صبر کیے ہوئے تھا اب بے قابو ہونے لگا اب مزید صبر نہ کیا جا سکتا تھا تو میں نے اپنے لن کو سیدھا کیا اور مہوش کی چوت کا نشانہ لگایا اور دوسرے ہی لمحے میرا لن مہوش کی چوت میں تھا میرا لن مہوش کی چوت میں گھسنا تھا کہ مہوش نے آنکھیں کھول لیں۔ میرے لن کے اس کی چوت میں گردش کرنے سے اس کے ہوش اڑ گئے تھے پھر میں نے تھوڑا اور جھٹکا دیا تو اس نے کہا تنویر ذارا آرام سے ڈالو درد ہو رہا ہے کافی عرصے بعد جو کر رہی ہوں پھر میں ہلکے ہکے جھٹکے دینے لگا تو مہوش دوبارہ مدہوش ہونے لگی۔ اب کہ وہ پہلے سے زیادہ حد تک انجوائے کر رہی تھی یہ بات اس کی ہلکی ہلکی سسکیاں بیان کر رہیں تھیں۔ پھر اس نے آہستہ سے کہا تنویر تھوڑا زور سے کرو۔ میں نے جھٹکوں کی رفتار تھوڑا تیز کر دی۔ پھر اس نے کہا تھوڑا اور زور سے۔ تو میں نے تھوڑا اور زور سے جھٹکے دینا شروع کر دیے۔ پھر بیس منٹ بعد پہلے مہوش اور پھر میں بھی جھڑ گیا۔ لن عموما ڈسچارج ہو کر سو جاتا ہے مگر مہوش کی چوت کی ایسی گرمی تھی کہ میرا لن ابھی تک ڈسچارج ہونے کے بعد بھی کھڑا تھا اور دوبارہ چدائی کے لیے تیار تھا۔

میں نے محسوس کیا کہ مہوش کی بھی یہی حالت ہے میں نے پھر مہوش کی طرف رخ کیا اور اس کو الٹا لٹا دیا۔ اب میں مہوش کی کمر پر کسنگ کر رہا تھا اور وہ بڑی طرح سسکیاں لے رہی تھی۔ پھر میری نظر دوبارہ مہوش کی بڑی سی گانڈ پر پڑی تو میری نیت اس کی گانڈ پر خراب ہونے لگی سچ میں اس کی چوت ہی نہیں گانڈ بھی بہت سیکسی تھی میں نے اس کی کمر پر کسنگ کرنے کے دوران ہی اپنا لن اس کی گانڈ پر رگڑنا شروع کر دیا۔ اب ایک ہاتھ میں میرا لن اور میرا دوسرا ہاتھ بیڈ پر تھا۔ میں ایک ہاتھ سے اپنا لن پکر کر مہوش کی گانڈ پر رگڑ رہا تھا اور پھر میں نے لن کو چھوڑا اور اپنے ہاتھ کی انگلی سے مہوش کی گانڈ کا سوراخ چیک کیا اب مجھے اندازہ ہو گیا کہ مہوش کی گانڈ کا سوراخ کہاں ہے بس میں نے دوبارہ اپنا لن اپنے ہاتھ میں پکڑا اور اسے مہوش کی گانڈ پر ڑگڑنے لگا اور جب میرا لن مہوش کی گانڈ کے سوراخ پر پوری طرح پہنچا میں نے اپنے لن کا ٹوپا اس کی گانڈ میں گھسا دیا۔ میرے مطابق مہوش اس کے لیے تیار نہ تھی مگر اب لن کا ٹوپا اس کی گانڈ میں پہچ چکا تھا میرے لن کے ٹوپے کے گانڈ میں داخل ہوتے ہی مہوش زور سے چلائی پلیز ادھر سے مت کرو۔ پلیز اسے باہر نکالو یہاں درد ہو رہا ہے۔ میں نے کہا میں نے باہر نکال لیا ہے تو اس نے کہا نہیں ابھی اندر ہے پلیز اسے باہر نکال لو مجھے بہت درد ہو رہا ہے میں نے لن اس کے اندر ڈالے ہوئے ہی اس کی کمر پر کسنگ شروع کر دی۔ اور اسے کہا کہ لن باہر ہے اوردرد ابھی ختم ہو جائے گا میرے پیار کرنے سے اس کا کچھ دھیان میری کسنگ  کی طرف لگ گیا تو میں نے اپنا باقی لن بھی اندر داخل کر دیا اس بار مہوش پھر دوبارہ چلائی مگر اس بار اسے اس قدر درد نہ ہوا تھا جتنا اس کی چیخوں سے پہلے محسوس ہو رہا تھا۔  اب میں نے کچھ دیر پھر اس کی کمر پر کسنگ کی اور پھر آہستہ آہستہ اس کی گانڈ کو لن سے جھٹکے لگاتے ہو جھٹکوں کی رفتار تیز کرتا گیا۔ اب میں نے محسوس کیا کہ اب مہوش کی گانڈ بھی میرے لن کی طرح انجوائے کر رہی ہے۔ اس طرح میں نے مہوش کی گانڈ کے دو اور اس کی پھدی کے تین شارٹ لگائے اور مہوش کے گھر سے میں رات دس بجے واپس آیا۔

Saturday, 15 November 2014

Fucking My Neighbors Wife

I have been fucking Sonia, my neighbor's wife, for at least a year now. It was so strange that it took so long for me to recognize a horny wife living just next to my door. Zoni and I had been living next door to Sonia. For the most part we were friendly neighbors, chatting over the back yard fence. We seldom visited but counted on each other to keep an eye out on our homes when either of us was away. Zoni and Sonia became a little closer after our kids had left home. They traded visits, chatted on the telephone and learned a little more about each other.
fucking-my-neighbor-wife
Sonia and Faraz were immigrants, although Sonia had arrived in the country as a baby. She was fluent in language and comfortable in our way of life. Faraz and she were childless.Sonia was a little bird of a woman. She dressed in an old fashioned manner that exposed very little of her body. She wore long sleeves and her skirts were almost ankle length. She seldom used make-up and basically did very little to make herself attractive.

This started to change a little as her friendship with Zoni evolved. Zoni has a real sense of style and encouraged her to think of her appearance.I commented to Zoni on one occasion that I had a difficult time imagining Sonia and Faraz getting it on. My point was that Sonia hardly looked like the type that might encourage a man to want sex. 

She looked at me in surprise and said, "She has a very attractive body and she enjoys talking about sex. She claims that Faraz is tired most of the time and she is not getting enough. I have been encouraging her to make herself more appealing to him around the house." I said in an attempt at sarcasm, "Oh yes, she would make a great looking model." Zoni simply shrugged at my insensitivity and ignorance.

Sonia became interested in computers and Zoni often took a laptop over to show her how interesting it could be and how much one could discover online. Neither Sonia nor Faraz was oriented towards technology. I had purchased a new laptop for my work and travel and Zoni asked Sonia if she would like to try using my old one.

I set things up for her, and Zoni answered her questions about surfing and e-mail. Sonia was fascinated and became hooked on it very quickly. She called Zoni regularly for help and advice. If something of a more technical nature came up, I would go over and try to help.

It was on one of these visits that I discovered the new Sonia. She met me at the door dressed in a tight fitting sweater and slacks that hugged her hips and butt quite snuggly. As I followed her up the stairs to the computer room I could not take my eyes off of her nicely rounded ass. Zoni's words returned to my mind about Sonia having a nice body.

Sonia stood to one side asking questions about a variety of computer and Internet issues. Each time I answered I turned to her and let my eyes drift down her body. She seemed to enjoy my stare and did not appear in the least uncomfortable. She pressed her hands down along her sides to her hips as if smoothing herself for my view. I became quite aroused looking at this tiny perfect woman's body, with every interesting part in proportion to her stature.

I began fantasizing about Sonia on a regular basis. I have discovered in the past; that despite my desire for a particular woman; those feelings were not always reciprocated and as a result I was slow to make an overt move. I was certain however that she was interested in me.

One afternoon, I went out onto my back deck to sit and read in the warm sun. As I opened the door I noticed Sonia quickly going back into her house. I was not certain whether she had noticed me. 

A few minutes later however, she returned to her back deck but was now wearing a terry cloth sun-suit, halter-top and shorts. I was certain that she had changed for my benefit. She had also applied a little make-up and looked very attractive.

"Good afternoon Sonia, you look quite stunning today. Do you plan to do some sunbathing?" I grinned at her.

"Hi Jim, no, I never sunbathe, my skin burns too easily," she said, "I just like enjoying the warmth under our deck umbrella."

I moved to the railing and leaned on it, my eyes drinking in her tiny body. All I could really think about was what she would look like naked and what it would be like to fuck her. 

I was sure that she could sense where my mind was. She was basking in my obvious interest. 

That night I gave Zoni a championship screwing. I worked my mind around to the point that I had Sonia under me and not my wife. Luckily, I do not talk much during the act and did not use Sonia's name. 

We lay exhausted after I finally got off and Zoni said, "Damn baby, where was your mind today? Give me one like that every time and your nights will be full."

My fascination with Sonia increased over the next several weeks. I looked for her through my office window, or went out on the back deck often in case she might come out. I imagined her in various stages of undress and speculated on what she would look like nude. 

I was anticipating her next call for assistance and hoping that her computer would have a big problem. There were a few calls for help but either it was a call for Zoni on a surfing issue or something minor where Zoni or both of us might go over to help. She continued to dress more provocatively as the weeks and months rolled onward.

Zoni golfed at her club's Ladies Day each week. I worked my business out of my home office. On one of those days when I was alone, Sonia called with an apparent serious computer issue. She was perfectly aware that Zoni was not home and asked me if I could spare her some time. I assured her that it was no problem at all and that I would be right over.

Sonia answered the door. I was so stunned at her appearance that she had to reach out and pull me indoors. She wore a full-length body suit made of purple velure that clung to every contour of her body. 

I said, "Sonia, you look absolutely stunning. What a beautiful outfit. And what a gorgeous woman."

She was preening herself for me, running her hands down her body, turning and swaying her hips and allowing me full scope of her appearance. "Do you really think so Jim? I am so happy that you like it. I wanted you to see me wearing it. I enjoy your eyes on me."

I said, "Have you put it on for Faraz yet? Does he chase you around the house when you wear that outfit?"

She smiled, "No, I have not let him see me in it yet, but I doubt it will do much for him. He works too hard and is always too tired to pay me much attention."

"God Sonia, take him on a holiday or something, he must need a break in his life. I would not be able to keep my hands off of you dressed in that outfit."

Sonia turned serious at my words, which I intended to be in a joking fashion, although I admit there was much truth in the comment. She said, "Come upstairs Jim and let me show you today's problem."

Well, today's problem for me was an aching hard cock. As we climbed the stairs, my eyes focused on her beautiful little ass. 

Sonia stood beside me as I settled down in front of the computer. Her tiny tits were about eye level and I had a difficult time forcing myself to get down to business. To make matters a little more difficult, she moved closer to me and rested a hand on my shoulder as she bent to describe her problem. She must have bathed very recently as the scent of bath water emanated from her entire body.

Actually her only computer problem was that she had screwed up her Browser tool bar and had lost her bookmarks. I made a bigger issue of it than that of course. I just loved the feeling and scent of her beside me.

I was sure that Sonia was also thinking erotic thoughts. She moved in behind me while her fingers traced little circles on the back of my neck as I struggled to resolve her technical issue. 

"Can you see what I have done wrong Jim? Can you fix it for me? I have so much trouble hitting the right keys," she rambled on as my breaking point loomed.

I settled back a bit and turned to look at her. She remained standing with her hands on my neck. I allowed my eyes to drift down her body and back to her eyes. I said, "Sonia, how the hell did you ever get yourself in that outfit? It looks like it is painted on you."

She smiled a little and said, "Did you not notice the zipper down the back Jim?"

I had not noticed a zipper because my eyes had focused on the curves under the cloth. I turned her around enough to see the tiny zipper that was well camouflaged within the cloth of the body suit. I reached up to find the little zipper pull and said, "Oh yes, now I see it." 

I turned her fully around with her back to me and slowly pulled the zipper down to the top of the crease in her butt, exposing her white shoulders and back. 

She made no attempt to stop me but did murmur, "Jim, you should not have done that. We might do something that we shouldn't do."

I now believed that I had a green light and continued arousing her by running my fingers down her backbone. I said, "Sonia, I have been dying to see your body for weeks. You are such a desirable woman. You have been in my fantasies on a nightly basis."

I turned her to face me. I was aware that she was not totally comfortable with proceedings, but I also could read interest in her eyes and body language. I reached up and started to peel the body suit off of her shoulders and down her front. She did not resist and in fact struggled to free her arms out of the short sleeves.

I pulled it down until her beautiful little tits popped out. I eased her towards me and kissed and licked the nipples. I could feel her body melt in my hands and she met my lips with hers as I turned my face to hers. Her lips were hungry, her tongue active as she straddled my legs.

I whispered, "Your nipples are sweet Sonia, let me make love to them."

I moved my face down between her tits and kissed and licked and sucked for several minutes. 

"This is not right Jim. I should not let you do this to me. Oh, goodness, this is so bad Jim," her words never seemed to stop.

I pushed her back from me and proceeded to peel the body suit down. I was mesmerized at her beautiful form as it emerged from beneath the purple velour. I paused as I rolled the suit past her round hips that framed the 'V' of her legs and belly. Her small dark bush appeared stark against the chalky whiteness of her skin.

I circled my hands in behind her butt, caressed her little cheeks and pulled her close to me, kissing her belly and top of her bush, nuzzling and licking her hips. 

She clutched my head to her while moaning, "We should not be doing this Jim. Where can it end? What about Zoni and Faraz? Oh God, I adore your lips and mouth on me. I have been thinking of you too this past while. I want to see you too. What will we do?"

At this point I was not quite sure what all we might do, but I had a distinct idea as to how it would end. She stepped out of the body suit and straightened up naked in front of me. She seemed relaxed enough and appeared to revel in the delight she read in my eyes as I stood and stripped down.

We moved together tentatively, her little tits touched me just above my belly button. I felt as if I was about to make love to a little toy woman. She did not feel like a toy. Her skin was hot and burning to my touch. My cock jammed up along her belly, she turned her face up to me and I whispered, "Touch me Sonia, feel my cock."

Our mouths met in a wild kiss and her small hand found my cock and encircled it. "Oh goodness, it is so big Jim," she moaned and pushed it down between her legs. Sonia knew how to pump a guy up.

I wanted to start fucking her while she was in such an aroused state. Other than the computer chair, there was nothing else in the room that seemed practical. I backed into the chair pulling her along with me. She was confused but her eyes soon fastened on my cock jutting upwards at a steep angle as I settled back.

She moved towards me, her legs spreading to straddle my knees. She looked extremely 'fuckable'. Her nipples were pointy and hard, her body soft and vulnerable, and I could see her pussy lips sticking down below her little bush. She leaned in to me and moved a nipple to my mouth as I slid my fingers between her legs each side of her slit.

She began to rock back and forth, finding a rhythm with my fingers. I slipped one finger up inside her followed by the other one, as she gasped in pleasure. I finger fucked her slowly, one finger each side of her prominent clit.

"Oh goodness," she said, "We are going to do it aren't we? You are going to take me aren't you Jim."

I worked my knees further between her legs and pulled her sweet little ass towards me until her little pussy rubbed my belly and loomed over my cock. I allowed her to adjust and settle down on it as we continued to kiss and tongue each other.

"Oh how I want this," she babbled, "I want all of you in me Jim."

I had expected her to be very tight, and it did feel snug as she slowly enveloped my knob and worked down along my shaft. She soon adjusted and relaxed and had me all in her within a few beautiful seconds. 

I let her grind at her own speed until she found her second gear. Her arms went around my neck and her little ass began to churn and pound me. I was holding her ass, spreading and caressing her cheeks while running my fingertips along her ass crease.

"Oh, this is so bad Jim. We can never do this again you know. Oh, but it feels so good Jim. You feel so big in me. I never want this to end," she rambled. 

Sonia was doing all the work and I was enjoying the ride. I worked a finger in along the bottom of my cock into her pussy and as I withdrew it I brushed her butt hole. She exploded frantically at my touch and started to cum. I pushed the finger in her butt to the second knuckle. That put her over the edge. I could feel her pussy clutching my cock through the thin membrane.

"What did you do? Oh my goodness, I have never, oh what a feeling, leave it there, leave it there." Sonia seldom used crude words apparently. Everything was 'it' and 'there' and 'do it'.

When she went rigid, I grasped her by the hips and lifted her up enough to allow me room to drive my cock repeatedly up her, slamming my thighs against her ass cheeks. Her nipples scratched at my chest as she held on to me. When I come I lifted my hips upward for deep penetration and raised her up as well. We strained at each other for a period, before collapsing in the chair. Her arms remained around my neck as her pussy pulsed around my cock.

I can still picture my cock slipping out of her as she lifted off of me. She had cum running down her leg and dripping to the floor. She ran out to another room and returned with a wet cloth and paper towels to clean the floor.

"My goodness, I never thought that would happen. It was all my fault Jim, I wanted to tease and arouse you, but never thought that we would get so caught up," the words streaming out of her mouth.

I said, "Sonia, that was a beautiful experience with a gorgeous woman, I will never regret it and I wanted it as much or more than you did. Here, let me fix the Tool bar, this is what happened."

I was pretty sure after that episode that I would be getting some pussy regularly, but it did not work out that way. Sonia stayed very friendly towards me when we saw each other over the back yard fence. She was not embarrassed in any way and in fact acted like she knew she had what I was wanting. She would smile serenely at me when we greeted each, and quite formal as always. "Hello Jim, how are you? How is Zoni?"

So one day when I knew we were both home alone, I called her and pretended that I was concerned about a new virus going around on the internet. She was polite but non-commital, so I said, "Sonia, I would really like to come over and check it out."

"Jim, I know what you want to check out, and it is not my computer." I heard her giggle a bit and was encouraged to continue on that line.

"I really enjoyed my last inspection of your computer, and I think you should let me come over and do it," I said smoothly, my cock jammed up along my belly and under my belt. "Did you not enjoy it?"

"Oh Jim, you know I did, and I felt so guilty because I had deliberately teased you and made you do it."

Quite frankly she had not seemed to look guilty when I had pulled my cock out of her. And then I remembered how she had got off so quickly when I ran my finger into her butt hole.

"Do you remember what I did with my finger when you got off that time?

Her voice was quiet when she responded, "Yes, I do, that was very exciting, I have never had that done to me before. Do you always do that when you are making love?"

I knew I had her attention now and said, "Sonia, I do more than put my finger there?"

"Oh God, your thing is too big to go in there. Isn't it? You couldn't get it in could you? Oh, oh, Jim the thought of that excites me."

"Yes Sonia, my cock can go in there. I am sure that you would enjoy the feel of it. I would have to go slowly, and if you want to try I will bring some jelly. I could apply the jelly to both your pussy and your bum. You could take some in your hand and make my cock slippery enough."

"Oh my God Jim, I don't know. It sounds so fascinating, but I don't think you could do it, your thing is so big and thick. But how would we do it? I mean, would you do it from behind me?"

"There are several ways Sonia, but for the first time it would be best with you on top of me. I could fuck your pussy for a while until you were very hot. Then we could slide my knob back and you could guide it into your bum hole. That way, you could control how fast and how deep to take my cock. It would be great."

"Jim, you are a bad man. Putting thoughts like that into my mind. I feel so awful to think about that. Can you come over now and check for that virus?"

We fuck on a weekly basis now, but no longer at her house. We meet at a nice hotel down in the city. She has become very exploratory and asks to try this way or that way. I am pretty sure she is getting her ideas off the internet. I have taught her how to give great head. I am bad.
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Share This Story

Stories