Saturday, 13 December 2014

Dost Ki Biwi Ki Chudai

Dear friends, this is my first story on this blog. I hope everyone would love my first Urdu Sex Story. This story is real and all events in this Urdu chudai story are real. Let's go to the story without any delay.
یہ تقریباً دس ماہ پہلے کی بات ہے جب ایک روز دفتر میں بیٹھا ہوا تھا ریسیپشن سے فون آیا کہ شاکر صاحب سے ملنے کے لئے ڈیفنس سے ناصر صاحب آئے ہیں میں نے ریسپشنسٹ سے کہا کہ ان سے میسج لے کر کہیں کہ شاکر صاحب ابھی سیٹ پر نہیں ہیں اور فون بند کردیا تھوڑی دیر کے بعد ریسپشنسٹ کا دوبارہ فون آیا کہ وہ شخص کہتا ہے کہ میں نے ان سے ہر حال میں ملنا ہے میں ان کا انتظار کرلیتا ہوں جب بھی آئیں گے میں مل کر جاﺅں گا جس پر اس کو ویٹنگ روم میں بٹھا دیا گیا ہے میں نے اسے کہا کہ تھوڑی دیر کے بعد اس کو میرے کمرے میں بھیج دیں تقریباً پانچ منٹ کے بعد میرے کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک شخص میرے کمرے میں داخل ہوگیا مجھے یہ شخص جانا پہچانا سا لگا میں نے حافظے پر 
زور دیا تو مجھے یاد آگیا کہ یہ ناصر ہے
Urdu-sex-story

جو میرا سکول میں کلاس فیلو تھا اور سب سے لائق لڑکا تھا میں نے اس کو بٹھایا اور نائب قاصد کو چائے لانے کے لئے کہا چائے پینے کے بعد ناصر نے بتایا کہ اس کو ایک مسئلہ درپیش ہے جس پر وہ بہت پریشان ہے میں نے اس سے مسئلے کے بارے میں پوچھا تو اس نے اپنا مسئلہ بیان کیا میں نے اس کو بتایا کہ میں اس کو حل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں پھر بھی میں کسی سے اس کے بارے میں بات کروں گا اس کے علاوہ میں نے اس کو کچھ مشورے بھی دئیے اور کہا کہ شائد اس سے اس کا مسئلہ حل ہوجائے جس پر ناصر مطمیئن ہوا اور کچھ دیر بعد مجھے اپنا موبائل نمبر دے کر چلا گیا چند روز بعد ناصر کا مجھے فون آیا اور اس نے بتایا کہ میرے مشورے کی وجہ سے اس کا مسئلہ حل ہوگیا ہے چند اور باتوں کے بعد اس نے مجھے اپنے گھر کھانے کی دعوت دے ڈالی میں نے اس کو بتایا کہ میں ایک دو روز میں یوکے جارہا ہوں تو اس نے کہا کہ میرے گھر کا ایڈریس لے لو واپس آکر جس دن مرضی گھر آجانا میں اگلے روز یوکے چلا گیا اور ایک ہفتے کے بعد واپس آگیا

ایک دن میں دفتر میں فارغ بیٹھا ہوا تھا اچانک مجھے ناصر کی دعوت یاد آگئی میں نے ناصر کو موبائل پر فون کیا تو وہ مسلسل بند جارہا تھا میں نے شام کو اس کے گھر جانے کا فیصلہ کرلیا شام کو سات بجے کے قریب میں اس کے بتائے ہوئے ایڈریس پر پہنچ گیا دروازے کے باہر لگی نیم پلیٹ پر اس کا نام پڑھ کر میں نے بیل دی ایک نوکر نے دروازہ کھولا اور میرا نام پوچھ کر اندر چلا گیا تھوڑی دیر بعد آیا اور مجھے اندر بلا کر ڈرائنگ روم میں بٹھا کر کولڈ ڈرنک لے آیا تھوڑی دیر کے بعد ناصر صاحب بھی آگئے اور ہم لوگ گپ شپ لگانے لگے اس نے بتایا کہ اچھا ہوا تم آج آگئے میں کل صبح کی فلائٹ سے ایک ہفتہ کے لئے اسلام آباد جارہا ہوں ابھی گپ شپ چل رہی تھی کہ ناصر صاحب کی اہلیہ بھی ڈرائنگ روم میں چلی آئی اور بیٹھ گئی میں نے اسے دیکھا تو میں حیران رہ گیا یہ فرح شاہ تھی جو میرے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھتی تھی میں اس کی حالت دیکھ کر حیران رہ گیا اس کی آنکھوں کے گرد حلقے پڑے ہوئے تھے ایسا معلوم ہورہا تھا جیسے برسوں سے بیمار ہو ناصر نے اس کے آنے پر کہا کہ آپ دونوں تو ایک دوسرے کو جانتے ہو میں تعارف کیا کراﺅں ناصر بدستور باتیں کئے جارہا تھا اور میں ماضی میں کھویا ہوا تھا

یونیورسٹی میں میرا پہلا دن تھا جب ایک لمبی سی کالے رنگ کی مرسڈیز گاڑی یونیورسٹی کے پارکنگ ایریا میں آکر کھڑی ہوگئی سب لوگ اسی کی طرف دیکھنے لگے ڈرائیور نے فوری طورپر پیچھے والا دروازہ کھولا اور ایک ایک خوبصورت لڑکی نے باہر قدم رکھا گلابی کلر کے سوٹ میں ملبوس یہ لڑکی تھی یا کو ئی پری ساڑھے پانچ فٹ قد گلابی چہرے ‘ لمبے سیاہ بالوں‘ عنابی آنکھوں اور بھرپور جسم کی مالکہ تھی گاڑی سے اتر کر چلی تو جیسے ہوا بھی تھم گئی کمر سے نیچے تک آئے ہوئے کھلے بال جب ہوا میں لہرائے تو دیکھنے والوں کی جیسے جان ہی نکل گئی ہو میں نے اپنی زندگی میں اس سے زیادہ خوبصورت لڑکی کبھی نہیں دیکھی تھی میرا دل چاہا کہ آگے بڑھ کر اس کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھا دوں مگر اچانک میری نگاہ اپنی کپڑوں پر پڑی جن پر سلوٹیں پڑی ہوئی تھی صبح ہی میں نئے کاٹن کے کپڑے استری کرکے یونیورسٹی کے لئے روانہ ہوا تھا بس میں جگہ نہ ملی تو مجبوراً کھڑے ہوکر آنا پڑا بھیڑ نے کپڑوں کا ستیا ناس کردیا تھا مجھے اپنی قسمت پر رونا آگیا

اس وقت مجھے خدا پر شکوہ بھی آیا کہ کاش تو نے بھی مجھے ایسے گھر میں پیدا کیا ہوتا جس میں گاڑی ہوتی اور آج میں گاڑی پر یونیورسٹی آتا بہرحال میں اس کو چلتے ہوئے دیکھتا ہی رہ گیا اور وہ نظروں سے اوجھل ہوگئی اس کو کلاس میں بھی دیکھا لیکچر کے دوران پروفیسر صاحب بھی اس کی طرف کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہے تھے بہرحال کئی ہفتوں تک اس کے ساتھ بات کرنے کی بھی ہمت نہ ہوسکی اس دوران ہرلڑکا اور لڑکی فرح شاہ سے دوستی کے لئے پر تول رہا تھامگر یہ عجیب لڑکی تھی کسی کے ساتھ سیدھے منہ بات ہی نہیں کرتی تھی کوئی بھی بات کرتا تو اس کو نظر انداز کر دیتی اس کی یونیورسٹی میں ایک ہی لڑکی کے ساتھ دوستی ہوئی تھی جو خود بھی ایک بہت بڑی گاڑی میں آتی تھی اور ڈرائیور صبح اس کے ساتھ آتا اور پارکنگ ایریا میں کھڑا اس کے فارغ ہونے کا انتظار کرتا رہتا تھایونیورسٹی میں ان دونوں کے قہقہوں کی مثالیں دی جاتی تھیں ایک دن میرا ایک دوست ناصر مجھ سے ملنے کے لئے آیا تو اس نے فرح شاہ کو دیکھ کر ٹھنڈی سی آہ بھری اور کہا کہ کیا لڑکی ہے میں اس کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہوں

میں نے اس کو کہا بیٹا یہ خیال دل سے نکال دے بلا کی مغرور لڑکی ہے تو کہنے لگا میں اس کا غرور توڑ دوں گا میں اس کے ساتھ شادی ضرور کروں گا اور یونیورسٹی سے چلا گیا بہرحال پورے دو سال گزر گئے ایک دو بار سٹڈی ٹور پر اس کے ساتھ صرف سلام دعا ہوئی تھی اس کو صرف یہ معلوم تھا کہ میرا نام شاکر ہے اس کے علاوہ اس کے ساتھ کوئی بھی تعلق نہیں بن سکا اور میری اس کے ساتھ دوستی کی حسرت ہی رہ گئی وقت گزر گیا یونیورسٹی سے فارغ ہوکر میں جاب پر لگ گیا اور آج اس کو دیکھا تھا اس کی حالت پر مجھے رونا آرہا تھا ابھی خیالوں میں ہی گم تھا کہ ملازم نے آکر کہا کہ صاحب کھانا تیار ہے اور میں خیالوں کی وادی سے باہر نکل آیا کھانا کھاتے ہوئے بھی میری نگاہ بار بار اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی بہرحال کھانے سے فارغ ہوکر میں ان کو خدا حافظ کہا اور اپنے گھر چلا آیا ساری رات مجھے نیند نہیں آئی بار بارفرح شاہ کا چہرہ میرے سامنے آرہا تھا کبھی اس کا یونیورسٹی کے زمانے کو یاد کرتا اور کبھی ابھی کی تصویر ذہن میں آجاتی میں نے اپنی الماری میں پڑی البم نکالی اور اس میں سے سٹڈی ٹور کی تصویریں نکال کر دیکھنے لگا 

اس میں ایک تصویر میں فرح کی تصویر بھی تھی آج اور یونیورسٹی کے دور کی فرح شاہ میں کتنا فرق تھا یونیورسٹی دور میں کتنی خوبصورت تھی اور بے خوف اور بے فقر تھی اور آج نہ جانے اس کو کیا ہوگیا تھا اس کی شکل سے ایسے لگتا تھا جیسے کئی ہفتوں سے کھانا ہی نہ کھایا ہو اس کی عنابی آنکھیں آج حلقوں کی قید میں تھیں اورچہرے پر رونق نام کی کوئی چیز نہیں تھی کافی سوچ بچار کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ اس کے بارے میں فرح شاہ ہی سے پوچھا جائے صبح میں نے سٹڈی ٹور کی تصویر گاڑی میں رکھی اور دفتر چلا گیا شام کو نو بجے کے قریب دفتر سے فارغ ہو کر گاڑی کا رغ ڈیفنس میں ناصر کے گھر کی طرف موڑ لیا راستے میں مجھے چند سال پہلے کی مغرور فرح شاہ یاد آگئی اور ڈر لگنے لگا کہ اگر فرح شاہ نے ماضی کی طرح بے عزتی کردی تو کیا ہوگا بہرحال میں سوچتے سوچتے ناصر کے گھر پہنچ گیا اور بیل دے دی فرح نے ہی دروازہ کھولا اور کہنے لگی کہ ناصر تو گھر میں نہیں ہیں میں نے اس سے کہا کہ کل کچھ کاغذات آپ کے گھر میں رہ گئے ہیں وہ لینے آیا ہوں تو مجھے لے کر ڈرائنگ روم میں آگئی اور کہا کہ مجھے تو کوئی کاغذ نظر نہیں آئے 

آپ دیکھ لیں میں آپ کے لئے چائے بنا کر لاتی ہوں اور چلی گئی تھوڑی دیر کے بعد چائے اور دیگر لوازمات لے کر آئی اور میرے ساتھ خود بھی بیٹھ کر چائے پینے لگی میں نے اس کو بتایا کہ کاغذات تو نہیں ملے خیر کہیں اور رہ گئے ہوں گے اس نے بتایا کہ نوکر تو چند منٹ پہلے ہی گھر کو چلا گیا ہے اس لئے خود چائے بنانا پڑی بری بنی ہوتو معافی چاہتی ہیں میں نے کہا نہیں بہت اچھی چائے ہے اچانک میں نے اپنی فائل میں سے اس کی سٹڈی ٹور والی تصویر نکال کر اس کے سامنے رکھ دی اس نے تصویر دیکھی اور ہنس دی میں نے اس سے کہا کہ ناصر کے ساتھ شادی کیسے ہوگئی اور تم نے اپنی حالت کیا بنا رکھی ہے اس نے بتایا کہ میرے والدین دس سال پہلے ہی انتقال کرگئے تھے بڑے بھائی اور بھابھیوں نے مجھے اپنے اوپر بوجھ سمجھ لیا تھا یونیورسٹی میں ناصر نے کہیں مجھے دیکھا اور اپنے والدین کو میرا رشتہ لینے کے لئے میرے گھر بھیج دیا میرے بھائیوں اور بھابیوں نے کچھ بھی نہ دیکھا اور میرا رشتہ کردیا میں نے انکار کیا تو ایک بھائی نے مجھ پر تشدد بھی کیا اور کہا کہ تم کو یہیں شادی کرنا ہوگی میں نے خاموشی سے شادی کرلی کچھ عرصہ تک ناصر نے میرا بہت خیال رکھا پھر ناصر غیر عورتوں کو گھر میں لانے لگاجس پر اس کے والدین نے اس کو علیحدہ کردیا اور ہم کرائے کے ایک گھر میں آگئے میں نے غیر عورتوں کے ساتھ تعلقات پر احتجاج کیا تو مجھ پر تشدد کرنے لگا

پھر اچانک اس نے کہنا شروع کردیا کہ اپنے بھائیوں سے جائیداد میں سے حصہ لے کر آﺅ میں نے بھائیوں سے حصہ مانگا تو انہوں نے اس شرط پر مجھے اسی لاکھ روپے دیئے کہ آئندہ ان کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہے گاحالانکہ اس کا جائیداد میں حصہ اڑھائی کروڑ روپے سے بھی زیادہ بنتا تھا ناصر نے اس پیسے سے یہ گھر خریدا اور باقی کی رقم اپنی عیاشیوں میں اڑا دی اب آئے روز ناصر مجھے تشدد کا نشانہ بناتا ہے اس نے بتایا کہ گذشتہ تین سال کے دوران وہ ایک بار بھی اس کے ساتھ نہیں سویا اور نہ ہی اس نے اس کی ضروریات پوری کی ہیں اس نے بتایا کہ میں نے کئی بار اس سے طلاق لینے کا بھی سوچا مگر پھر دل میں آتی ہے میں جاﺅں گی کہاں اس لئے خاموش ہوجاتی ہوں اس نے بتایا کہ ناصر اسلام آباد نہیں گیا بلکہ اپنی ایک نئی سہیلی کو لے کر مری گیا ہوا ہے فرح باتیں کرتے ہوئے مسلسل رو رہی تھی میں نے اگے بڑھ کر ٹشو سے اس کے آنسو صاف کئے تو میرے ساتھ چمٹ گئی اور چیخ چیخ کر رونے لگی میں نے اس کو بڑی مشکل سے چپ کرایا اچانک میری نظر سامنے لگے کلاک پر پڑی تو رات کے ساڑھے گیارہ بج رہے تھے میں نے اس سے اجازت چاہی تو کہنے لگی کھانے کا وقت ہوگیا ہے کھانا کھا کر چلے جانا مجھ سے انکار نہ ہوسکا

وہ مجھے بٹھا کر کچن میں چلی گئی تھوڑی دیر کے بعد کھانا کمرے میں ہی لے آئی دونوں نے مل کر کھانا کھایا اس دوران بھی دونوں باتیں کرتے رہے لیکن اب فرح کافی حد تک نارمل ہوچکی تھی شائد رونے سے اس کا من ہلکا ہوگیا تھا بات چیت کے دوران اس نے مجھ سے ہنسی مذاق بھی شروع کردیا اور کہنے لگی کہ مجھے معلوم ہے یونیورسٹی کے زمانے میں تم بھی مجھ پر بہت مرتے تھے یہ بات سنتے ہی میرے منہ سے غیر ارادی طورپر نکل گیا کہ یونیورسٹی کے دور میں ہی نہیں اب بھی تم پر بہت مرتا ہوں یہ بات سنتے ہی چپ ہوگئی اور اس کا چہرہ سرخ ہوگیا مجھے لگا کہ ابھی فرح مجھے تھپڑ مارے گی اور کہے گی کہ ابھی یہاں سے دفع ہوجاﺅ لیکن اس نے کچھ نہ کہا بلکہ خاموشی کے ساتھ کھانا کھاتی رہی کھانے کے بعد برتن بھی خاموشی سے اٹھائے اب میں نے اس سے اجازت چاہی تو کہنے لگی کہ چائے لاتی ہوں پی کر چلے جانا وہ کچن میں گئی اور تھوڑی دیر بعد چائے لے آئی اور خاموشی سے بیٹھ کر چائے پینے لگی میں تھوڑی دیر تک اس بات پر ردعمل کا انتظار کرتا رہا جب اس نے کوئی ردعمل ظاہر نہ کیا تو میں نے مزید آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا میں نے اس سے پوچھا کہ ناصر تو گذشتہ تین سال سے تمہارے پاس نہیں آیا تو تم کیسے اس کے ساتھ گزارہ کررہی یہ بات سن کر بھی وہ خاموش رہی میں نے ایک بار پھر اپنا سوال دہرایا تو بھی خاموش رہی

میں نے چائے کا کپ ٹیبل پر رکھا اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا جیسے ہی میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اس کو جیسے کرنٹ لگ گیا ہو فوراً اپنا ہاتھ چھڑوایا لیکن خاموش رہی میں مزید آگے بڑھا اور اس کی ران پر ہاتھ رکھ دیا تو اس نے میرا ہاتھ پیچھے کردیا اور کہنے لگی شاکر کیا کررہے ہو میں نے کوئی جواب نہ دیا اور دوبارہ اپنا ہاتھ اس کی ران پر رکھا اور اس کو پھیرنا شروع کردیا اس نے اپنے ہاتھ سے مجھے ہٹانا چاہا تو میں نے اسے پکڑ کر اس کے ہونٹوں پرکس کردی وہ ٹھوڑی سی تلملائی مگر بولی کچھ نہ میں نے دوبارہ اس کو کسنگ شروع کردی اب وہ نہ کرو شاکر نہ کرو ایسا ٹھیک نہیں ہے کہتی رہی مگر میں نے اپنا کام جاری رکھا تھوڑی دیر کے بعد اس نے بھی میرا ساتھ دینا شروع کردیا میں نے اس کے پستا پکڑے تو بھی اس نے ناں ناں کی مگر میں باز نہ آیا تو اس نے خود کو تقریباً میرے حوالے کردیا میں مزید آگے بڑھا اور اس کی قمیص میں ہاتھ ڈال کر اس کے پستان پکڑ لئے اف ف ف ف ف یہ کتنے ٹائٹ تھے میں نے اس کی قمیص اور برا اتار دی اور حیران رہ گیا سرح کلر کے اڑتیس سائز کے گول اور ٹائٹ پستان تھے جن کے نپل گلابی کلر کے تھے میں نے اس کے نپلز پر زبان پھیرنا شروع کردی تو وہ آﺅٹ آف کنٹرول ہوگئی اور ام م م م م م م ‘ آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ‘ س س س س س س س س س کی آوازیں نکالنے لگی میں نے اس کے بعد اس کے پیٹ پر بھی کسنگ کی تو کانپنے لگی

میں نے اس کی شلوار اتاری واہ کیا بات ہے میرے منہ سے نکل گیا اس کی گول گول ٹانگیں اور ان کے درمیان میں چھوٹے سائز کی چوت ‘ اس نے اپنے بال ایک دو روز قبل ہی صاف کئے تھے میں نے اس بار پھر اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھے اور ہاتھ ٹانگوں پر پھیرنا شروع کردیا اب وہ بے حال سی ہو رہی تھی اس نے میرے ہونٹوں پر کاٹنا شروع کردیا پانچ منٹ تک اس کے ہونٹوں‘ اور کانوں پر کسنگ کی تو وہ نڈھال ہوگئی اور اس نے اپنا پورا جسم ڈھیلا چھوڑ دیا میں نے اس کو ڈرائنگ روم میں ہی صوفے پر لٹا یا تو کہنے لگی اندر بیڈ روم میں چلتے ہیں وہ مجھے لے کر اپنے بیڈ روم میں آگئی اور بیڈ پر ڈھیر ہوگئی میں نے اس کو دوبارہ ہونٹوں پر کسنگ شروع کی اس کے بعد کانوں پر کسنگ کی پھر پستانوں کی طرف ہوگیا ایک کو ہاتھ میں پکڑ لیا اور آہستہ آہستہ دبانا شروع کردیا جبکہ دوسرے کے نپل کو منہ میں لے کر چوسنا شروع کردیا پھر دوسرے کا نپل منہ میں لیا اور چوسنا شروع کردیا وہ مسلسل ام م م م م م ‘ س س س س س س س س س ‘ آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ‘ کی آوازیں نکال رہی تھی پانچ منٹ تک اس کے پستان چوسنے کے بعد میں نے اس کے پیٹ پر کسنگ شروع کردی جب میرے ہونٹ اس کی ناف کے قریب پہنچے تو جیسے سمٹ گئی ہو اس نے میرے سر کو پکڑ کر اوپر کرنے کی کوشش کی مگر میں لگا رہا اس کے بعد میں نے اس کی رانوں پر زبان پھیرنا شروع کی تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور کہنے لگی شاکر یہ برداشت نہیں ہوگا میں نے اس کو زبردستی لٹا دیا 

اور اس کی رانوں پر زبان پھیرنے لگا وہ مستی میں ادھر ادھر سر مار رہی تھی اور منہ سے ش ش ش ش ش ش شاکر نہ کرو کہہ رہی تھی پھر میں نے اس کی پنڈلیوں پر کسنگ کی تو وہ دوبارہ اٹھ گئی اور مجھے پکڑ کر اپنے اوپر لٹا لیا میں نے اس کے ہونٹوں پرہونٹ رکھ دیئے اور ہاتھ کے ساتھ اس کے جسم کو ٹٹولنے لگا میں نے اپنی زبان اس کے منہ میں ڈالی تو اس نے زور زور سے چوسنا شروع کردی پھر کچھ دیر کے بعد کہنے لگی شاکر اب بس کرو مجھ سے اب مزید برداشت نہیں ہورہا میں اس کی ٹانگوں کے درمیان میں بیٹھ گیا اور اپنا عضو اس کی چوت پر رکھ کر اس کو رگڑنے فرح مستی میں پاگل ہورہی تھی اور سیکسی آوازیں نکال رہی تھی کچھ دیر کے بعد اس کی چوت نے پانی چھوڑنا شروع کردیا اور اس کی چوت چکنی ہوگئی میں نے اب اپنا عضو اس کے اندر کرنے کا فیصلہ کیا اور ساتھ ہی ایک زور دار جھٹکا مار دیا جس کے ساتھ ہی میرا آدھے سے زیادہ عضو اس کی چوت میں چلا گیا سال ہا سال سے اس کی چوت نہ چدنے کی وجہ سے کافی ٹائٹ ہوگئی تھی اور میرا لن اس کے اندر جانے سے اس کو کافی تکلیف بھی ہورہی تھی اس کی چوت اتنی گرم تھی کہ مجھے لگا کہ جیسے میرا لن کسی آگ کی بھٹی میں چلا گیا ہو پہلے جھٹکے کے ساتھ ہی اس کی ایک چیخ بھی بلند ہوئی اور ساتھ ہی وہ نیچے سے ہل گئی اور میرا لن اس کے اندر سے باہر آگیا جیسے ہی اس کی نظر میرے لن پر پڑی دیکھ کرکہنے لگی شاکر اتنا بڑا میں برداشت نہیں کرسکوں گی میں نے اس کو سمجھایا کہ کچھ نہیں ہوگا

تو کہنے لگی شاکر ذرا آرام سے کرو مجھے تکلیف ہورہی ہے میں نے دوبارہ اپنے لن کو اس کی چوت کے منہ کے اوپر رکھا اور فوری طورپر پہلے سے بھی زور دار جھٹکا دیا اور میرا آٹھ انچ کا لن اس کی چوت کے اندر چلا گیا اس بار اس نے پہلے سے بھی زیادہ بلند چیخ ماری نیچے سے نکلنے کی کوشش کی مگر اس بار میں نے اس کو کامیاب نہیں ہونے دیا اور کچھ دیر کے لئے رک گیا اور اس کے اوپر ہی لیٹ کر اس کو کسنگ کرنے لگا وہ اب نارمل ہوگئی کچھ دیر کے بعد میں نے اپنے لن کو حرکت دینا شروع کی اور اندر باہر شروع کردیا اب فرح کو بھی مزہ آرہا تھا اور نیچے سے وہ اپنی گانڈ کو اٹھا اٹھا کر میرا ساتھ دے رہی تھی اس نے اپنا نیچے والا ہونٹ اپنے دانتوں میں دبا رکھا تھا اب میری حرکت میں آہستہ آہستہ تیزی آرہی تھی اور اس کی طرف سے جواب میں بھی تیزی آتی جارہی تھی پانچ منٹ کی مسافت پر اس کی منزل آگئی اور اس کی چوت سے تیزی کے ساتھ پانی بہنے لگا مگر ابھی میری منزل بہت دور تھی تاہم ابھی میں نے اس جگہ رک کر آرام کرنے کا فیصلہ کیا اور کچھ دیر کے لئے اس کے اوپر لیٹ گیا اب فرح بری طرح مجھے چومنے لگی میں بھی اس کا اسی طریقے کے ساتھ جواب دے رہا تھا کچھ دیر کے بعد وہ دوبارہ تیار ہوگئی

اور میں نے دوبارہ سفر کا آغاز کردیا اب میرے جھٹکوں میں بہت زیادہ تیزی آگئی تھی اور وہ بھی اسی سپیڈ کے ساتھ میرا ساتھ دے رہی تھی مزید کچھ دیر کے بعد وہ دوبارہ فارغ ہوگئی مگر مجھے کہنے لگی کہ تم جاری رہو میں نے مزید پانچ منٹ لئے اور فارغ ہونے کے قریب آگیا اس کو بتایا تو کہنے لگی کہ اندر نہ چھوٹنا باہر نکل آﺅ میں نے اپنا لن باہر نکال لیا اور فارغ ہوکر اس کے ساتھ پہلو میں لیٹ گیا وہ میرے ڈھیلے پڑے لن پر اپنا ہاتھ پھیر رہی تھی اس دوران باتیں شروع ہوئیں اس نے بتایا کہ ناصر کا لن زیادہ سے زیادہ پانچ انچ کا ہے اور وہ بھی کافی باریک ہے میں آج تک سمجھتی رہی کہ تمام مردوں کے لن اتنے ہی ہوتے ہیں اس کے ساتھ کرنے میں بھی بہت مزہ لیتی رہی ہوں مگر تین سال سے اس کے ساتھ بھی سیکس نہیں کیا جس کے باعث میں سیکس کا ذائقہ ہی بھولتی جارہی تھی آج تمہارا لن دیکھا ہے جو اتنا بڑا ہے مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ حقیقتاً انسان کا ہی لن ہے یہ موٹا بھی بہت ہے میں نے اس کو کہا کہ فلموں میں تو اس سے بھی بڑے بڑے لن ہوتے ہیں تم نے کبھی فلم نہیں دیکھی تو کہنے لگی نہیں کبھی دل ہی نہیں کیا اس رات ہم نے مزید ایک بار سیکس کیا اور پھر رات کو ساڑھے چار بجے کے قریب میں اس کے گھر سے نکلا اور اپنے گھر جاکر سو گیا اگلے دن صبح دس بجے کے قریب اس نے مجھے فون کیا اور پھر ملنے کا کہنے لگی میں شام کو پھر اس کے گھر گیا

لیکن اس رات کھانے کے بعد فوری طورپر اپنے گھر چلا آیا کیونکہ اس دن میرے دفتر کے بہت سارے کام باقی پڑے تھے جن کو میں نے اسی دن کرنا تھا اس شام میں نے اس سے کہا کہ وہ ناصر سے طلاق کیوں نہیں لے لیتی تو اس نے کہا کہ ناصرسے طلاق کے بعد کیا تم مجھ سے شادی کرو گے تو میں چپ ہوگیا اس نے دوبارہ پوچھا تو میں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ تم میرے ساتھ گزارہ نہیں کرسکتی بہرحال اگر ناصر کا رویہ تمہارے ساتھ ایسا ہی ہے جیسا تم بیان کررہی ہو تو اس کے ساتھ رہنے سے بہتر ہے کہ تم علیحدہ رہنا بہتر ہے ہاں اس صورت میں میں تمہارا بھرپور ساتھ دوں گا اور بطورایک دوست کے ہمیشہ مجھے تم ہر مشکل گھڑی میں اپنے پاس ہی پاﺅ گی اس کے بعد ناصر کی غیر موجودگی میں میں نے ایک بار پھر اس کے گھر گیا تو اس بارمیری بجائے فرح نے مجھ سے سیکس کیا اس طرح لگتا تھا کہ جیسے بھوکی بلی ہو حقیقتاً بھی وہ تین سال سے بھوکی تھی

ایک ہفتہ کے بعد ناصر گھر واپس آیا تو فرح نے اس سے طلاق کا مطالبہ کردیا یہ بات مجھے ناصر سے ہی معلوم ہوئی اس نے مجھ سے مشورہ کیا تو میں نے اس کو کہا کہ اگر فرح اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو اس کو طلاق دینے میں کوئی دیر نہیں کرنی چاہیے مگر ناصر نے بتایا کہ جس گھر میں وہ رہ رہے ہیں وہ فرح کے نام پر ہے اگر اس کو طلاق دے دی تو میں کہاں جاﺅں گا میں نے پھر فرح کی طرف داری کی بہرحال چند روز بعد ناصر نے فرح کو طلاق دے دی جس کے بعد میں نے فرح کو دوسری شادی کرنے کو کہا مگر وہ ابھی تک تیار نہیں ہوئی ابھی بھی ہفتے دس دن کے بعد اس کے ساتھ محفل کرنے کا موقع مل جاتا ہے اب پھر فرح کے چہرے کی رونقیں بحال ہورہی ہیں مگر وہ بات نہیں ہے جو یونیورسٹی کے زمانے میں ہوا کرتی تھی

Monday, 8 December 2014

My First Threesome With My Husband And His Friend

My name is Sara and I'm 27 years old. It is my real life story of having my first threesome with my husband and his friend. I’ am married to a wonderful man named Shahid. We have been friends for 10 years and have been in marriage for 8. Together we have a wonderful sex life. My husband knows that I am always willing to try new things and keep it fresh in the bedroom. I am about 5’7’’ with long black hair, D-cup breasts, 9/10 pants and an athletic figure. Shahid is about 250 lbs. 6’1” with black hair, a seven inch cock and chest hair. Our closest friend in the world is Imran, we have all been friends since high school and know everything about each other. Imran and I would flirt on occasion and I would feel comfortable talking to him about all the things that I would talk to Shahid about. The three of us have even been skinny dipping together, but I could have never guessed what would transpire one evening in June.
my-first-threesome-story

We decided to head down and spend the weekend with Imran, he had been having a rough time at his job, as we all had been having, and we thought this weekend would be a good one to cut loose and just have fun. After spending most of the day in Imran'’s apartment pool we ventured out to buy some booze. Imran and Shahid were set on being drunk for the night, and I thought I would tag along. After we got back to the apartment we wasted no time making drinks for ourselves. We sat around the table in the kitchen talking and then decided to play cards. We continued to drink playing crazy 8’s and rummy 500, then Shahid suggested that we play poker. I have never played before so he had to explain it to me.

We don’t have anything to bet with…” I said, “You know we’re all broke... haha.”We could bet drinks, make it a drinking game.” Imran suggested.How about some strip poker?” Shahid chimed in.Ya right! I am going to need a whole lot more of this if we decide to do that!” I said gesturing to my nearly empty glass.

Without saying a word Imran got up out of his chair reached over and grabbed my glass with a smile. He quietly began filling my cup with another Vodka Tonic. I’m in.” Imran said sitting back down handing me a fresh drink.

I could feel the warm feeling in my stomach start to grow and automatically got nervous. I couldn’t believe that Imran wanted to do this too. How could I refuse?If we are going to do this I would really like to lose the overhead light” I suggested.Again Imran got up without a word and disappeared into the bedroom emerging with two candles, he also walked over and closed the blinds being that we were on the first floor of the apartment. He lit the candles and shut off all the other lights.

“There, perfect” he said with a smile.We played a few practice rounds and then it was time to get started for sure. Shahid dealt the cards for black jack and I lost the first game. I discarded my shirt. Again black jack and again I lost. I discarded my undershirt revealing a white lace bra and I could feel the boy’s eyes on me as I did. “You stink at this game” Imran remarked.

“Shut up!” I yelled with a smile. I couldn’t help it, I was very aroused by the thought of their eyes on my body.The next round that was dealt Shahid lost and took his shirt off. The game went on until I was just in my bra and panties, and the boys were just in their underwear and socks. The next round was dealt… I lost. I nervously stood from the table and slowly rolled my white lace underwear down my legs to the floor revealing the most private part of myself to the boys at the table. I sat back down and Shahid instinctively reached under the table and touched my leg, slowly moving up my leg, I stopped him. Not yet, I was thinking.

Again we continued and it was time for the boys to take their underwear off, I couldn’t help but watch each of them strip down to nothing in front of me. Imran was built very different from Shahid. He was about 6’4’’, 200 lbs., with no chest hair and dirty blonde hair. He also had a nice cock, not as thick as Shahid, but long and tempting. Although we had been skinny dipping together I had never really gotten the chance to examine Imran naked, I could feel my sex tingling under the table. It wasn’t long after we were all completely naked, sneaking glances of one another in the candle light.

“Well, now that we are all naked what do we play for?” I asked.We can ask each other sex questions!” Shahid said, obviously excited about what was happening. Of course I lost the first game again and it was my turn to answer a question. “When you watch porn, what do you like to watch?” Shahid asked. I couldn’t believe he was going that in depth right away. I thought about my answer. Should I answer with something that a girl would say, or should I say what I really like? Three-ways” I answered. To tell you the truth Shahid and I had thought about doing a three way. I think that having two guys at once is so sexy. Shahid had also asked if I could do a three way with any of his friends who would it be, and my answer was always Imran.

“Three ways huh?” Imran said, again smiling at me. Although I was drunk I could feel my face turning red. I would love to see what kind you like” Imran said. He rose from the table and entered his room grabbing the laptop. “Here, find one you like, I want to see.”I snatched up the laptop and walked, stark naked, over to the couch in the living room. I searched for a suitable video and once I found one the boys came and joined me on the couch on either side of me. As the porno played in the background I knew that I was very wet, and I could feel the familiar pleasurable tingle that I knew well from being with Shahid. We watched for a while and then I felt Shahid slowly slide his hand up my leg and he didn’t stop until he had one finger inside of me.

I let out a small gasp and looked over at Imran who wasn’t watching the video anymore but staring my pussy and Shahid fingers sliding in and out while stroking his cock. I started to grind my hips into Shahid hand and continuing to watch Imran stroke his cock wanting to reach over and take it from him and into my hand. Then suddenly Shahid slid off the couch and knelt on the floor and started to go down on me. I groaned, grabbing two handfuls of Shahid hair and grinding my hips into him. His warm tongue felt so amazing it was hard to focus on Imran. When I leaned back I felt Imran’s smooth skin against my back and slowly reached over and took one of his hands, gently kissed it and placed it on my breast. I gave his hand a reassuring squeeze and that was all he needed.

Imran pushed the laptop off him and took both of my breasts in his hands. He then leaned down and gently sucked my nipples and kissed up my chest and neck. Shahid continued to pleasure me with his tongue, I couldn’t believe how amazing having four hands on my body felt. I ran my fingers through Imran’s course hair kissing his neck and scratching my nails down his back. I pulled Imran close onto me so I could feel his smooth chest on my tits. With one hand wrapped around him and the other in Shahid hair I nearly climaxed. Before I could Shahid pulled away and pulled me up, kissing me so hard and passionately.Get on your knees.” he whispered.

Without hesitation I did as he said wanting to please these two like they had just pleased me. I knelt on the floor with Shahid and Imran standing over me. They each had their erect cock in their hands. Shahid grabbed the back of my neck and pulled my head onto his cock. I slowly sucked at first only letting the tip enter my mouth. While I was teasing Shahid I started to stroke Imran’s cock with my other hand. Finally I took all of Shahid cock into my mouth and he let out a loud groan. Then I switched shifting weight on my knees and I took all of Imran’s cock into my mouth right away. I couldn’t help but think that I have never done that with anyone other than Shahid. He was the only person in the world who I had ever had sex with! Imran ran his fingers through my hair pulling his cock in and out of my mouth slowly at first and then he began to pick up pace. I still couldn’t believe that my fantasy was coming true. And this side that I was seeing of Imran was so sexy it made me even more excited!

“Let’s go to the bedroom!” Shahid said.Yes!” Imran responded out of breath.Both of the boys helped me off of my knees and into the bedroom. Shahid picked me up and slowly laid me down on the bed. The cool sheets felt wonderful against my bare skin. Shahid crawled over on his hands and knees until he was over me and in between my legs. I was so wet and I wanted him inside me so badly! Even though I was so excited to have Shahid I was wondering where Imran had disappeared to, hoping that our encounter in the living room wouldn’t be the only one.You ready babe?” Shahid whispered.

“Yes!” I said without hesitation.Knowing my response to his question Shahid plunged into me. His large cock drove down deep inside me all the way to the bottom. I let out a loud groan and he thrusted in and out of me on Imran’s bed. In the midst of the familiar pleasure I had felt many times I began to feel Imran’s large warm hands on my smooth legs. He had retreated to his closet for a condom. Sara, tell Imran you want him…” Shahid whispered.

“I can’t.” I said. I didn’t know if I could. I had never had sex with anyone else before. I didn’t know if it was something I could ask for so blatantly! “Do it Sara, it’s ok.” Shahid insisted.I looked over at Imran, he had one hand rubbing my leg and the other stroking his smooth cock.

“Imran,” I stammered, “I want you now.”Shahid pulled out of me and walked around the edge of the bed watching with wanting eyes. Imran took his place over the top of me. We made short eye contact and I slowly bit my bottom lip feeling the butterflies rage inside of my stomach. Slowly, Imran entered me. He started very gently glancing at my face to make sure that I was ok. His cock was different from Shahid’ especially with the condom on, but at the same time the difference felt amazing. This was the type of sex that I wasn’t used to. Shahid and I would usually make passionate, hard sex. Imran was slow and steady.

I looked up into Imran’s eyes and said, “Harder!” Imran’s eyes lit up as speed increased. Again I said, “Harder!” I saw a smiled come over him as he continued to go faster and deeper. Yes! Yes! Don’t stop!” I could feel the warm feeling building inside me. Imran was pushing me to the brink, Shahid was squeezing my tits and kissing my neck.

“Are you going to cum baby?” Shahid asked me.Yes!” and as I said it I exclaimed Imran jammed his cock deep into me and I climaxed with Imran inside me. I shivered all over and felt my legs go limp on either side of him. Oh, we’re not done with you yet!” Shahid said with a smile.

Imran pulled out of me and flipped me over on the bed with his strong arms. He then grabbed my hips and plunged into me fucking me doggy style. As he did I began sucking Shahid cock again. Again feeling four hands on me was so hot, I was having so much fun! Shahid slid his hands down my back and started playing with my ass. First he stuck one finger in and slowly two. I knew that Shahid had always want to have anal sex but I would never let him. Tonight I couldn’t deny him that pleasure. All the while Imran kept fucking me from behind and squeezing my ass.

Suddenly Imran stopped and walked around the edge of the bed to switch places with Shahid. Shahid started to fuck me and continue to play inside my ass while I sucked off Imran. I didn’t know what to do with the condom because I didn’t know if he had another one and there was no way that I wanted the sex to be over so I sucked his cock through the condom. I sucked all the way down and could lick his balls with my tongue. Imran was pulling my hair and pulling my mouth onto his cock.

“Even with a condom on this feels fucking amazing!” Imran said in between heavy breaths. Shahid had always said that I was good at giving head, but it was so hot hearing it from someone else. I wanted to keep going, I wanted to take the condom off and really show him what I could do, I wanted Shahid to keep fucking me doggy style. I didn’t think the night would get better.

Get on top of me!” Shahid leaned over and whispered in my ear pulling out abruptly.Without hesitation I stopped and crawled on top of Shahid. This was my favorite position when we had sex by ourselves. I love to be in on top and in control and it was the position where penetration felt the deepest. I wrapped my fist around Shahid huge cock and guided it slowly into my wet pussy. We both let out groans. I began to move hard and fast grinding my hips to meet his, I had my hands on his chest. Soon I felt Imran behind me, his hands on my ass. I could feel his hard cock touching my ass. He positioned himself outside of my ass.

I let out a groan. I couldn’t believe I was going to do this! This was one of my biggest fantasies coming with life. He leaned down and kissed my neck and shoulder and slowly pushed inside of me. A swell of pain shot through my body. It was all so tight, and the boys could tell it was painful at first. Imran, like a gentleman, started very very slow at first waiting to see if I would be ok. Once the initial pain was gone it was unlike anything I had every felt before. Everything was so tight, so full. Soon Imran was moving at the perfect rhythm working together with Shahid so that they were alternating going in and out of me.

This was the loudest I had been since the evening began, I had never felt such pleasure in my life. I looked down into Shahid’ eyes biting my lower lip. This is amazing! More….. Don’t stop… Yes!” Half the time I didn’t even know what I was saying. Imran slid his hand up my back and neck and then grabbed a handful of my hair pulling my head to the side and kissing my neck. Again I felt the familiar feeling deep inside of me. It was building fast!

“I’m going to cum, don’t stop! I’m almost there.” Hearing my words the boys started going faster. Shahid leaned up and began to suck one of my breasts, Imran gave my hair another tug, and with that I exploded! I shook on top of both of their cocks spinning into the most intense orgasm of my life. I felt my body go limp and I collapsed on top of Shahid. Imran and Shahid then began to kiss my neck, back and chest. Was that a good one baby?” Shahid asked with a smile.

Not being able to form words at the moment I just looked at him and smiled. After resting a moment I crawled back on top of Shahid reverse cowgirl style. Even though my body was tired I wanted to make each of them cum the way I just did. I positioned myself up on top of Shahid and slid his cock into my ass very slowly. I was nervous about it hurting again because his cock is a little wider than Imran’s. But it felt amazing once I put it inside me. “Imran, I need you inside me too. I want to make you cum!” I gestured for Imran to crawl on top of me.

Imran slid right into me and laid down on top of my naked body. I was sandwiched between my two best friends feeling pleasure that I had never known. I hoisted myself up and pressed my naked body into Imran’s kissing and softly biting his neck and shoulder. Shahid’ had his hands on my ass and back puling me down onto him. I could feel Imran’s breath deepening, breathing deep into my ear. “Are you close?” I asked him.“Yes,” Imran said softly.

“Tell me when Imran, I want to know when you cum!” “Oh god Sara I’m coming now!” He said as he thrusted into me sharply two more times and spilled his warm cum inside me. As he did I let me head fall back onto Shahid who was going even faster now that he watched Imran cum. Imran let his body sink down to meet mine and softly kissed my chest and neck a few more times. Wow…” was all Imran had to say as he pulled out of me and rolled to the edge of the bed.

I then rolled off of Shahid and told him to get on top and finish me! “I want you to cum inside me!” I begged and Shahid eagerly drove inside of me, again all the way to the bottom filling me up. He didn’t waste any time going slow but started to go hard and fast!

“Oh Sara! Oh Sara!” he breathed, “I’m going to cum!.. I’m cumming!” Shahid collapsed on top of me and I could feel each burst of his warm cum spilling inside of me. When he finished he boosted himself up on his elbows and looked into my eyes. “How was that love?” he asked.

“That was fucking spectacular!” I said not trying to hold back any of my excitement. Shahid kissed me lightly on the lips and we all laid on the bed, sweaty and satisfied. We soon fell asleep together and I dreamed of the night that had just occurred wanting to wake the boys and do it all over again. It was a perfect night with people I love and I can only hope that it will happen again one day!

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Share This Story

Stories